فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل نے حماس پر لبنان سے متعدد راکٹ داغنے کا الزام عاید کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل نے جمعرات کے روز فلسطینی تنظیم حماس کو لبنان سے 30 سے زیادہ راکٹ داغے جانے کا ذمے دار قرار دیا ہے جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے 2006 کے بعد لبنان سے ہونے والے سب سے بڑے راکٹ حملے کے جواب کا فیصلہ کرنے کے لیے سلامتی کابینہ کا اجلاس طلب کیا ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’’کسی کو بھی ہمیں آزمانا نہیں چاہیے، ہم اپنے ملک اور عوام کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے‘‘۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز لبنان سے 34 راکٹ داغے گئے ہیں۔ ان میں سے 25 کو اس کے آئرن ڈوم میزائل شکن نظام نے ناکارہ بنادیا۔ اسرائیل کی ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ ایک شخص کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔صہیونی فوج نے ان راکٹوں کے جواب میں لبنان کے جنوبی علاقے کی جانب توپ خانے سے گولہ باری کی ہے۔

لبنانی فوج کو راکٹ اور لانچر ملے ہیں
لبنانی فوج کو راکٹ اور لانچر ملے ہیں

اسرائیل اورلبنان کے درمیان سرحدی علاقے میں کشیدگی ایک ایسے وقت میں پیداہوئی ہے جب مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کے دوران میں اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں دراندازی کی ہے اور فلسطینی عبادت گزاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔پولیس کی ان چھاپا مار کارروائیوں کے بعد اسرائیل کو عالمی دباؤ کا سامنا ہے۔

ہنوزکسی نے جنوبی لبنان سے داغے جانے والے راکٹوں کے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔تاہم اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے حماس کو ان کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ترجمان نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ راکٹ فائر کرنے والی جماعت لبنان میں حماس ہے۔

تین اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ لبنان میں فلسطینی دھڑوں کو راکٹ حملے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے، حزب اللہ کو نہیں جبکہ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ حزب اللہ ہی نے اس راکٹ حملے کی اجازت دی ہو گی۔

لبنانی فوج کو راکٹ اور لانچر ملے ہیں
لبنانی فوج کو راکٹ اور لانچر ملے ہیں

اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ تامیر ہیمان نے ٹویٹر پر کہا کہ یہ حزب اللہ کی فائرنگ نہیں تھی لیکن یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ حزب اللہ کو اس کے بارے میں علم نہیں تھا۔

دریں اثناء حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ لبنان کا دورہ کر رہے ہیں۔ تاہم فلسطینی تنظیم کی جانب سے فوری طور پر اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ لبنانی فوج یا حزب اللہ کی جانب سے بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

لبنان میں فلسطینی دھڑوں کے وابستگان پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں۔ وہ ماضی میں اسرائیل پر وقفے وقفے سے فائرنگ کرتے رہے ہیں لیکن 2006 میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے بعد سے سرحد کافی حد تک خاموش رہی ہے۔ حزب اللہ ہی کا اسرائیل کے ساتھ واقع جنوبی لبنان میں غلبہ ہے اور اس کے پاس جدید راکٹوں کا ذخیرہ ہے۔

لبنانی فوج کو راکٹ اور لانچر ملے ہیں
لبنانی فوج کو راکٹ اور لانچر ملے ہیں

امریکا کے محکمہ خارجہ نے مسجد اقصیٰ کے ان مناظر پر تشویش کا اظہار کیا ہے،جن میں اسرائیلی پولیس کو چھاپوں کے دوران نمازیوں کو پیٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ صہیونی حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کی کارروائی کا مقصد مسجد کے اندر رکاوٹیں کھڑی کرنے والے نوجوانوں کے گروپوں کو ہٹانا تھا۔

واشنگٹن نے لبنان سے راکٹ حملوں اور اس سے پہلے غزہ سے کیے جانے والے حملوں کی بھی مذمت کی ہے اور کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کاحق حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں