سعودی عرب نے تربوز کی فصل میں خود کفالت کی منزل حاصل کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب میں تربوز کی فصل کی خود کفالت کی شرح 99 فیصد سےتجاوز کر گئی ہے۔ مملکت میں سالانہ چھ لاکھ 24 ہزارٹن سے زیادہ تربوز کاشت کیا جاتا ہے۔ وزارت زراعت کے مطابق سعودی عب میں تربوز کی کاشت 23 ہزار ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر کی جاتی ہے۔

سسٹین ایبل رورل ڈیولپمنٹ پروگرام "ریف" کے ذریعے وزارت زراعت اناج کی فصل کی پیداواری کارکردگی کو بڑھانے، غذائی تحفظ کا حصول، اس کے موسم کے دوران اس کی کاشت کی شرح کو بڑھانے کی کوشش کرتی ہے۔

تربوز کا موسم گرمیوں کی مدت میں شروع ہوتا ہے اور چھ ماہ تک رہتا ہے، تربوز کی کاشت فروری کے آخر میں شروع ہوتی ہے اور اس کی کاشت کے 100 دن بعد پھل دیتا ہے۔

سعودی عرب میں تربوز دو موسموں میں اگایا جاتا ہے: ستمبرمیں اس دوران اسے ٹھنڈ سے بچانے کے لیے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ فروری اور مارچ کے آخر تک اس کی فصل 90 سے 120 دن کے بعد کاٹی جاتی ہے۔ یہ مملکت کے بیشتر علاقوں میں اگائی جاتی ہے۔ سب سے اہم پیداواری علاقوں میں ریاض، الجوف، حائل، مکہ المکرمہ، القصیم اور جازان شامل ہیں۔

تربوز انسانی صحت کے لیے مفید پھل ہے۔ اس میں کئی اقسام کے وٹامن ہوتے ہیں۔ یہ قوت مدافعت کو مضبوط کرتا ہے، دماغ کی حفاظت کرتا ہے، امراض قلب اور کینسر سے بچاتا ہے اورجسم میں پانی کی کمی کو پورا کرتا ہے۔

تربوز کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی وزارت بہت سے تہواروں کا اہتمام کرتی ہے، جن میں اللیث میں حبحب العثری تہوار بھی شامل ہے، جو اکثر مختلف نمائشوں اور تقریبات کے ساتھ ساتھ تفریحی، ثقافتی اور سماجی پروگراموں پر مشمتل ہوتا ہے۔

سعودی عرب میں مقامی سطح پر فصلوں، پھلوں اور اناج کی کاشت میں خود کفالت مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کا حصہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں