دشمنوں کو جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: اسرائیلی وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان سے راکٹ حملوں کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعرات کے روز کہا کہ ان کے دشمنوں کو اس کی "قیمت چکانا پڑے گی"۔ ان حملوں کا الزام فلسطینی گروپوں پر لگایا گیا تھا۔

نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک مختصر ویڈیو بیان کے مطابق انہوں نے کابینہ کے اجلاس کے دوران کہا کہ "ہم اپنے دشمنوں پر حملہ کریں گے اور وہ کسی بھی جارحیت کی قیمت ادا کریں گے۔"

گذشتہ روز یہودیوں کی عید فصح کے موقع پر لبنان سے اسرائیل پر 34 راکٹ فائر کیے گئے ۔ یہ 2006 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 34 روزہ جنگ لڑنے کے بعد سرحد کے ساتھ سب سے بڑی کشیدگی ہے۔

یہ میزائل حملے، اسرائیلی پولیس کی جانب سے اسلام کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصیٰ ' میں فلسطینی شہریوں کے ساتھ جھڑپوں کے بعد کیے گئے ہیں۔ اسرائیلی کاروائی کی پورے علاقے میں اور عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی جب کہ فلسطینی گروپوں کی جانب سے جوابی کارروائی کے انتباہات سامنے آئے۔

اس جگہ کو یہودیوں کے لیے ٹمپل ماؤنٹ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ جو یہودیت کا مقدس ترین مقام سمجھا جاتا ہے۔

"ہمارا ٹیمپل ماؤنٹ پر اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے،" نیتن یاہو نے موجودہ انتظامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جس کے مطابق یہودی اس جگہ کا دورہ کرسکتے ہیں لیکن وہاں عبادت نہیں کر سکتے۔

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ "ہم صورتحال کو پرسکون کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور وہاں تشدد کا استعمال کرنے والے انتہا پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں