سلطان النیادی خلائی چہل قدمی کرنے والے پہلے عرب خلاباز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے خلاباز سلطان النیادی 28 اپریل کو خلا میں چہل قدمی کرنے والے پہلے عرب خلاباز بن جائیں گے۔

یو اے ای کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’وام‘‘ کے مطابق، النیادی، جو اس وقت بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر عرب تاریخ کے طویل ترین خلائی مشن کے لیے موجود ہیں، اسپیس واک کا استعمال کریں گے۔

یہ خلا میں معمول کی کاروائی ہوتی ہے جب ایک خلاباز خلائی سٹیشن کی دیکھ بھال اور اپ ڈیٹس کے لیے اسپیس شپ یا خلائی اسٹیشن سے باہر جاتا ہے۔

یہ خلائی چہل قدمی مشن تقریباً ساڑھے چھ گھنٹے تک جاری رہے گا اور اس میں ناسا کے فلائٹ انجینئر اسٹیفن بوون سلطان النیادی کے ہمراہ ہوں گے۔

خلائی چہل قدمی کے لیے منتخب خلاباز "انتخاب کے سخت عمل سے گزرتے ہیں" اور انہیں انجینئرنگ، روبوٹکس اور لائف سپورٹ سسٹم جیسے مختلف شعبوں میں غیر معمولی تربیت دی جاتی ہے۔

سلطان النیادی نے خلائی چہل قدمی کی تیاری کے لیے ہیوسٹن، ٹیکساس میں جانسن اسپیس سینٹر میں ناسا کی نیوٹرل بوائینسی لیبارٹری میں 55 گھنٹے سے زیادہ تربیت حاصل کی ہے۔

سلطان النیادی 2 مارچ کو فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سنٹر سے چھ ماہ کے خلائی مشن کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ وہ اس سائنس مشن کے دوران خلاء میں انسانی خلیوں کی نشوونما سے لے کر مائیکرو گریوٹیی میں آتش گیر مادوں کو کنٹرول کرنے تک کے تجربات کریں گے۔

41 سالہ النیادی، یو اے ای سے خلاء میں جانے والے دوسرے خلاباز، جبکہ پہلے اماراتی ہیں جنہوں نے امریکی سرزمین سے طویل خلائی مشن کے لیے اڑان بھری۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں