لبنانی فوج نے اسرائیل پر داغے جانے کے لیے تیار راکٹ تباہ کردیے

اسرائیلی حملوں کے چند گھنٹوں کے بعد لبنانی فوج کو سرحدی علاقے سے راکٹ لانچر بھی مل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جمعہ کی صبح لبنانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اسے جنوب میں ایک سرحدی علاقے سے ایک راکٹ لانچر مل گیا ہے جس میں متعدد راکٹ بھی موجود تھے جنہیں اسرائیل کی جانب فائر کیا جانا تھا۔ لبنان کی جانب سے اسرائیل پر فائر کیے گئے راکٹوں کے جواب میں اسرائیلی فوج نے لبنان پر بمباری کی تھی۔ اسرائیل نے لبنان سے برسائے گئے راکٹوں کا الزام فلسطینی گروپوں پر لگایا تھا۔

لبنان کی فوج نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ اس کے یونٹوں میں سے ایک کو مرجعیون کے میدان میں ایک میزائل لانچر ملا ہے جس میں کئی ایسے راکٹ موجود تھے جنہیں ابھی فائر نہیں کیا گیا تھا۔ ان راکٹوں کو تباہ کرنے کا کام شروع کردیا گیا۔

فوج نے ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی تصاویر میں راکٹ لانچر کو زیتون کے کھیت کے اندر رکھا ہوا دکھایا گیا اور اس کے اندر کل 12 میں سے چھ میزائل تھے جو لانچ نہیں ہوئے۔

جمعرات کو لبنانی فوج نے ایسے راکٹوں کو ناکارہ بنا دیا جو لانچ ہونے کے لیے تیار تھے۔ یہ راکٹ ضلع صور کے قصبوں القلیلہ اور زبقین کے آس پاس پائے گئے۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں سے اسرائیل کی طرف راکٹ داغے گئے تھے۔ ان راکٹ حملوں کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

اسرائیل کے مطابق جنوبی لبنان سے کم از کم 34راکٹ اسرائیل کی جانب داغے گئے۔ پانچ راکٹ رہائشی علاقوں میں گرے اور ان سے ایک آدمی زخمی ہوگیا تھا۔ اسرائیل نے راکٹ حملوں کا الزام حماس، اسلامی جہاد جیسے فلسطینی دھڑوں پر عائد کیا ہے اور ان حملوں میں حزب اللہ کے کسی کردار کو مسترد کردیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل نے 2021 کے موسم گرما کے بعد لبنان پر حملے شروع کیے ہیں۔ یاد رہے کہ جمعرات کو اسرائیل پر داغے گئے راکٹوں کی تعداد 2006 کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ تعداد ہے۔

جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (UNIFIL) نے جمعہ کی صبح ایک بیان میں کہا کہ سرحد پار سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کی ضرورت ہے ۔ یواین فورس نے دونوں فریقوں کے حوالے سے کہا کہ "وہ جنگ نہیں چاہتے۔"

خیال رہے اسرائیلی پولیس نے منگل کی رات سے لیکر بدھ تک مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد اقصی پر دھاوا بول دیا تھا اور 350 فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا تھا۔ اس کے بعد سے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں بڑا اضافہ ہوگیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں