مصنوعی ذہانت کا درست استعمال دنیا کو بڑے نقصانات سے بچا سکتا: سعودی ولی عہد

سعودی عرب آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال سے متعلق سماجی بیداری میں دوسرے نمبر پر آگیا: انڈیکس جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب ڈیجیٹل گورننس کو بڑھانے، کاروبار میں سہولت فراہم کرنے، معیار زندگی کو بلند کرنے اور مملکت میں مصنوعی ذہانت کی مصنوعات اور سروسز پر سعودی شہریوں کا اعتماد بڑھانے کے لیے سرگرم ہے۔ سعودی عرب مستقبل میں ملک میں مصنوعی ذہانت کے مثبت اثرات لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ صورت حال واضح طور پر ولی عہدہ شہزادہ محمد بن سلمان کی مستقبل کے حوالے سے دور اندیشی کی عکاسی کر رہی ہے۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے علمی معیشتوں کی تعمیر اور ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کو آگے بڑھانے کے لیے ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی قدر کو اجاگر کرنے کے لیے ایک اہم ماڈل بنانے پر زور دیا ہے۔ ان کا ویژن ہے کہ سعودی عرب مصنوعی ذہانت، تکنیکی ترقی اور سائنسی تحقیق سمیت جدید ٹیکنالوجی سے متعلق ہر چیز میں دیگر ملکوں سے آگے رہے۔

سعودی عرب اپنے اہداف کی تکمیل کے لیے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہا اور سائنسی تحقیق، اختراعات اور ممتاز ایجادات کے شعبوں میں اپنی مصنوعات تیار کر رہا ہے۔

سعودی عرب نے اپنے ’’ویژن 2030 ‘‘ کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے بہترین مراکز کا آغاز کیا، عالمی تبدیلی اور ترقی کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کے لیے حالیہ برسوں میں متعدد اقدامات کئے ہیں۔

اس حوالے سے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا "ہم سائنسی ایجادات، بے مثال ٹیکنالوجیز اور ترقی کے لامحدود امکانات کے دور میں رہ رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ آف تھنگز جیسی ان نئی ٹیکنالوجیز کو اگر بہتر طریقے سے استعمال کیا جائے تو دنیا کو بہت سے نقصانات سے بچایا جا سکتا اور دنیا کو بہت سے بڑے فائدوں کے حصول کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔‘‘

ایک رائے شماری کے بعد سعودی شہریوں میں مصنوعی ذہانت کی مصنوعات اور خدمات سے نمٹنے میں سعودی شہریوں کے اعتماد کی بلند شرح کا انکشاف کیا گیا۔ اس رائے شماری کے مطابق سعودی عرب مصنوعی ذہانت کے حوالے سے سماجی بیداری میں دنیا میں دوسرے نمبر پر تھا۔

یہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس انڈیکس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب مصنوعی ذہانت کے حوالے سماجی بیداری میں دنیا میں دوسرے نمبر پر آیا ہے۔ انڈیکس رپورٹ کے چھٹے ایڈیشن کو سٹینفورڈ یونیورسٹی امریکہ نے رواں ماہ جاری کیا ہے۔

اس ٹیکنالوجی میں دانشمند قیادت کی دلچسپی 2019 ء میں سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی "SADAIA" کے قیام سے بھی ظاہر ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں