وادی اردن میں فلسطینی کی فائرنگ سے دو یہودی آباد خواتین ہلاک، ایک زخمی

فائرنگ کرنے والا گاڑی خراب ہونے پر پیدل ہی جائے وقوعہ سے فرار ہو گیا، فوج نے علاقے کی ناکہ بندی کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مقبوضہ فلسطین سے "العربية" اور"الحدث" کے نامہ نگاروں نے دو یہودی آباد کار خواتین کی ہلاکت اور تیسری کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔ فائرنگ کا واقعہ غرب اردن میں وادی اردن [الاغوار] کے شمالی علاقے الحمرا جنکشن پر جمعہ کے روز پیش آیا۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ فوج فائرنگ کرنے والے شخص کو تلاش کر رہی ہے جو کارروائی کے بعد موقع سے فرار ہو گیا۔ اسرائیلی فوج نے اس مقصد کے لئے اریحا اور نابلس کو جانے والے راستوں کی ناکہ بندی کر دی ہے تاکہ حملہ آور ان علاقوں کی جانب فرار نہ ہو سکے۔

میڈیا کے مطابق وادی اردن میں فائرنگ کرنے والے شخص گاڑی خراب ہو جانے کے باعث جائے وقوعہ سے پیدل ہی فرار ہوا۔

اسرائیلی ایمبولینس سروس کے اہلکاروں نے بھی تصدیق کی ہے غرب اردن کے شمالی علاقے میں فلسطینی حملہ آور کی فائرنگ سے دو یہودی آباد خواتین ہلاک اور تیسری شدید زخمی ہو گئیں۔

وادی اردن میں فائرنگ کا واقعہ

یاد رہے کہ جنوبی لبنان میں کشیدگی میں اضافے کے تناظر میں اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی بمباری کے بعد یہ پہلی پرتشدد کارروائی ہے۔

ریڈ ڈیوڈ سٹار ریسکیو ایجنسی نے بتایا کہ مرنے والی دونوں خواتین کی عمریں بیس سال کے درمیان تھیں، فائرنگ میں شدید زخمی ہونے والی تیسری خاتون چالیس برس کی تھیں۔ ان پر وادی اردن کی الحمرا یہودی بستی میں فائرنگ کی گئی۔

ایمرجنسی سروس کے عملے نے بتایا کہ تینوں خواتین کو بے ہوشی کی حالت میں ان کی کار سے نکالا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حملہ آور نے پوائنٹ بلیک فاصلے سے فائر کیا۔ اسرائیلی سکیورٹی فورس حملہ آور کو تلاش کر رہی ہے۔

فائرنگ کا حالیہ واقعہ مقبوضہ غرب اردن میں کئی مہینوں سے جاری تشدد کی لہر میں اضافے کے بعد ہوا۔ فائرنگ سے چند گھنٹے پہلے اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے غزہ کی پٹی اور لبنان میں مسلح فلسطینیوں کے ٹھکانوں پر گولا باری کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں