’’اسرائیل کے ساتھ کشیدگی میں بڑھاوا حزب اللہ کے مفاد میں نہیں ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی وزارت دفاع کے دو اہلکاروں نے کہا کہ اسرائیل نے حزب اللہ کے ساتھ وسیع تر تنازعے سے بچنے کے لیے غزہ اور لبنان میں حماس کے ٹھکانوں پر رات کے وقت کیے جانے والے حملوں کو فوکس کیا۔

اسرائیل کے ایک دفاعی اہلکار کے مطابق جمعرات کو لبنان سے راکٹ داغے جانے کے بعد حزب اللہ نے کئی بین الاقوامی ثالثوں کے ذریعے اسرائیل کو یہ پیغامات بھیجے ہیں کہ وہ اس حملے کا حصہ نہیں ہے۔

امریکی ویب گاہ Axios کے مطابق دفاعی اہلکار نے کہا کہ اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے جائزے حزب اللہ کے دعوے کو حقائق کے طور پر قبول کرتے ہیں۔

اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ جمعرات کو لبنان سے فائر کیے گئے راکٹوں کے جواب پر بات چیت کرتے ہوئے اسرائیلی وزراء نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل کو لبنان میں ایسی جنگ کی طرف راغب ہونے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے جس کے علاقائی تنازعہ میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہو۔

اسرائیل نے لبنان سے راکٹ فائر کرنے کے لیے حماس کو مورد الزام ٹھہرایا اور غزہ میں سرنگوں اور ہتھیاروں کی تیاری کے مقامات پر بمباری کے ساتھ جواب دیا۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ مسلح گروپ ان سرنگوں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد غزہ میں فلسطینی دھڑوں کی طرف سے رات کے وقت درجنوں راکٹ داغے گئے۔

اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حماس کے ٹھکانوں پر بھی غیر معمولی حملے کیے ہیں۔ حماس نے لبنان سے راکٹ داغے جانے کا اعلان نہیں کیا لیکن کہا کہ وہ اسرائیل کو "غزہ کی پٹی کے خلاف خطرناک جارحیت اور اس کے خطے پر مرتب ہونے والے نتائج کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔

اسرائیلی فوج نے غزہ اور لبنان دونوں کی سرحدوں کے قریب واقع قصبوں اور شہروں میں شہریوں کی نقل وحرکت پر سے تمام پابندیاں ہٹا دی ہیں، جو اس بات کی ایک بڑی علامت ہے کہ صورتحال پرسکون ہو گئی ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے فضائی یونٹوں کے کچھ ریزرو فوجیوں کو ڈیوٹی پر بلایا ہے۔

ایک دفاعی اہلکار کے مطابق جمعرات کے سکیورٹی کابینہ کے اجلاس سے پہلے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوؤو گیلنٹ کے درمیان ہونے والی بات چیت میں فوج اور موساد نے تجزیہ پیش کیا کہ لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں پر حزب اللہ کا ردعمل کیا ہو گا۔

موساد کے سربراہ ڈیوڈ پارنیا نے کہا کہ حزب اللہ ممکنہ طور پر کسی بھی اسرائیلی فضائی حملے کا جواب دے گی۔ دفاعی اہلکار کے مطابق اسرائیل کو تنظیم کے ساتھ ساتھ حماس کے اہداف اور لبنانی اہداف پر حملہ کرنا چاہیے۔ لیکن اسرائیلی قابض فوج کے چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی نے کہا کہ اسرائیلی مفاد حزب اللہ کو ضرب لگانے میں نہیں بلکہ اسرائیل کا ردعمل حماس پر مرکوز رہنا چاہیے۔

اسرائیلی حکام نے کہا کہ بعد میں اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں جن اہم مسائل پر بات کی گئی ان میں سے ایک لبنان میں اسرائیل کے ردعمل کا دائرہ کار تھا۔

ایک دفاعی اہلکار نے بتایا کہ سکیورٹی سربراہوں نے وزراء کو بتایا کہ حزب اللہ کو وسیع تر ردعمل کے نتیجے میں تنظیم ممکنہ طور پر اسرائیلی شہروں پر میزائل فائر کرے گی، جو جنگ کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ تمام وزراء نے حماس پر ردعمل پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے فوج کی سفارشات کو قابل عمل قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں