ایران: مظاہروں کے دوران قتل کرنیوالے کو سزائے موت سنا دی گئی

عباس نے خوزستان میں فوجی ہتھیار سے 7 افراد کی جان لی، ذرائع ابلاغ کی ویب سائٹس کے زیر اثر ہونے کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں جمعہ کو ایک شہری کو اس جرم میں موت کی سزا سنا دی گئی کہ اس نے نومبر 2022 میں حکومت کے خلاف مظاہروں میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ اس دوران متعدد افراد کو قتل بھی کیا تھا۔

ایران میں 16 ستمبر 2022 کو 22 سالہ ایرانی کرد خاتون مہسا امینی کی ایران کی اخلاقی پولیس کی حراست میں پراسرار موت کے بعد احتجاجی تحریک شروع ہوگئی تھی۔ ان مظاہروں کے دوران سیکڑوں افراد مارے گئے جن میں سکیورٹی فورسز کے درجنوں ارکان بھی شامل ہیں۔

ایرانی فورسز نے ہزاروں مظاہرین کو گرفتار بھی کرلیا۔ زیر حراست افراد پر حکام نے اسرائیل اور مغربی ملکوں کی جانب سے ایران میں بھڑکائے گئے فسادات میں حصہ لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

ان گرفتار افراد میں عباس کورکوری بھی شامل تھا۔ عباس کو جمعہ کے روز لوگوں کو دہشت زدہ کرنے اور قتل کرنے کے لیے ہتھیار فراہم کرنے اور زمین پر بدعنوانی پھیلانے کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایران کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی شائع کردیا گیا ہے۔

کورکوری کو گزشتہ نومبر کی 16 تاریخ کو صوبہ خوزستان کے علاقے ایزیہ میں 7 افراد کو فوجی ہتھیار سے قتل کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ کورکوری اپنی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرسکتے ہیں ۔

عدلیہ کی ویب سائٹ نے بتایا ہے کہ عباس نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے سوشل نیٹ ورکس کے زیر اثر ہو کر یہ اقدام کیا ہے۔ عباس نے اپنے خلاف الزامات کو قبول کرلیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں ایران میں مدعا علیہان کے اعترافی بیانات پر مسلسل تنبیہ کرتے ہوئے کہتی آرہی ہیں کہ ان سے اکثر جبر کے تحت بیان دلوایا جاتا ہے۔ یاد رہے ایران میں احتجاجی تحریک میں گرفتار ہونے والوں میں سے چار افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ 20 دیگر کو ایرانی عدلیہ نے مظاہروں سے متعلق مقدمات میں سزائے موت سنا رکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں