اسرائیلی پولیس کا پھر مسجد اقصی پر دھاوا، حالات کشیدہ

سخت کشیدہ حالات میں بھی یہودی تہوار منانے کے لیے زبردستی یہودیوں کو مسجد میں لایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

گزشتہ ہفتے اسرائیلی پولیس کی جانب سے نمازیوں پر حملے کے بعد اس کے ارکان نے اتوار کو ایک مرتبہ پھر مسجد اقصی کے صحنوں اور احاطوں پر دھاوا بول دیا۔ یہودی تہوار ’’ عید الفصح‘‘ کے چوتھے دن یہودی آباد کاروں کو سخت حفاظتی انتظامات میں زبردستی مسجد اقصی کے احاطے میں داخل کرایا گیا۔ اس حملے کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔

دراندازی کرنے والوں نے گروپوں کی شکل میں قبلہ اول پر دھاوا بولا اور اسرائیلی پولیس کی بھاری نفری ان کی حفاظت کرتی رہی ۔ القدس کے قدیم شہری علاقے میں شدید تناؤ کی کیفیت میں بھی یہودیوں نے مسجد اقصی کی بے حرمتی کی اور وہاں پر اپنی رسومات ادا کیں۔

دوسری طرف فلسطینی ایوان صدر کے سرکاری ترجمان نبیل ابو ردینہ نےکہا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے خلاف مسلسل اسرائیلی اشتعال انگیزی ناقابل قبول ہے۔ اسرائیلی جارحیت مسجد اقصی کے صحن کو میدان جنگ میں تبدیل کر دے گی اور صورتحال سنگین ہو جائے گی۔

ابو رودینہ نے مزید کہا کہ رمضان کے مہینے میں مقدس مقامات اور ان میں عبادت گزاروں کے خلاف روزانہ حملے قابل مذمت اقدامات اور ناقابل قبول ہیں ۔

اتوار کے دن اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصی کا تقدس پھر پامال کیا گیا ہے۔ بدھ کے روز صہیونی فورسز نے مسجد اقصی میں داخل ہوکر فلسطینی نمازیوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور متعدد فلسطینیوں کو گرفتار بھی کرلیا تھا۔ اسرائیل کی اس جارحیت کی بین الاقوامی سطح پر شدید مذمت کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں