غزہ وحماس

حزب اللہ اور حماس کے سربراہوں کی بیروت میں ملاقات، مزاحمت کے محور پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حزب اللہ اور حماس کے رہ نماؤں نے بیروت میں ملاقات کی ہے اوراسرائیل کے خلاف ’’مزاحمت کے محورکی تیاریوں‘‘ پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

غزہ کی پٹی میں حکمران فلسطینی تحریک حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ گذشتہ بدھ سے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں موجود ہیں۔

اسرائیل نے حماس پرالزام عاید کیا ہے کہ اس نے گذشتہ جمعرات کو جنوبی لبنان سے اس کے علاقے کی طرف 34 راکٹ فائر کیے تھے۔یہ علاقہ ایران کی حمایت یافتہ شیعہ تحریک حزب اللہ کا گڑھ ہے۔

اسرائیلی فوج نے جمعہ کوعلی الصباح جنوبی لبنان اور غزہ دونوں پر حملے کیے تھے۔اس سے پہلے غزہ کے ساحلی علاقے سے بھی اسرائیل کو نشانہ بنانے کے لیے راکٹ داغے گئے تھے۔

حزب اللہ نے اتوار کو ایک بیان میں کہاہے کہ تنظیم کے سربراہ حسن نصراللہ کے ساتھ اسماعیل ہنیہ کی ملاقات میں دونوں نے "مزاحمت کے محور کی تیاریوں" اور حالیہ پیش رفت کے تناظر میں اس کے ارکان کے درمیان تعاون پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

اس بیان میں مزاحمت کا محور سے مراد "لبنانی، فلسطینی، شامی اور ایران کے حمایت یافتہ دیگر گروپ" ہیں جو اسرائیل کے مخالف ہیں اور اس کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دریائے اردن کے مغربی کنارے اور غزہ میں مزاحمت کی شدت اور مقبوضہ بیت المقدس میں مسجدالاقصیٰ میں پیش آنے والے واقعات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

گذشتہ بدھ کو اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے صحن میں دھاوا بول دیا تھا اور وہ باجماعت ادا کرنے والے فلسطینیوں کو زبردستی ہٹا دیا تھا۔ اس کارروائی کے بارے میں صہیونی پولیس کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد 'قانون توڑنے والے نوجوانوں اور نقاب پوش مظاہرین' کو ہٹانا تھا۔

لبنان اور غزہ پر حملوں کے بعد اسرائیل نے اتوار کی صبح اعلان کیا تھا کہ اس نے شام کی سرزمین سے داغے گئے چھے راکٹوں کے جواب میں وہاں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

صہیونی فوج کے مطابق اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں پر دو راکٹ گرے تھے جبکہ فضائی دفاعی نظام نے ایک کو ناکارہ بنا دیا تھا۔

اسرائیل پر تازہ ترین حملے حالیہ دنوں میں اسرائیلیوں کو نشانہ بنانے کے لیے دو الگ الگ واقعات میں تین افراد کی ہلاکت کے بعد کیے گئےہیں لیکن ان راکٹ حملوں کی کسی گروپ نے ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ کو تل ابیب کے ساحل پر ایک اسرائیلی عرب نے اپنی کار کو پیدل چلنے والوں پر چڑھا دیا تھا جس کے نتیجے میں ایک اطالوی سیاح ہلاک اور سات دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

اس سے قبل مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں پر حملے میں دو برطانوی اسرائیلی بہنیں ہلاک اور ان کی والدہ شدید زخمی ہو گئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں