سعودی عرب میں آم کی مقامی پیداوار سالانہ 88.6 ہزار ٹن سے تجاوز کر گئی

مملکت پھلوں کے بادشاہ کی پیداوار میں خود کفالت کی منزل کے قریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت نے انکشاف کیا ہے کہ مملکت سعودی عرب میں آم کی فصل کی خود کفالت کی شرح 60 فیصد سے زائد ہو گئی ہے۔ وزارت زراعت کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں سالانہ 88.6 ہزار ٹن سے زیادہ آم پیدا ہوتا ہے۔ مملکت میں آم کی کاشت 6880 ایکڑ رقبے پر کی جاتی ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزارت زراعت پائیدار دیہی ترقی کے پروگرام "ریف" کے ذریعے آم کی فصل کی پیداواری کارکردگی کو بڑھانے، خوراک کی حفاظت کے حصول، وزارت کی حکمت عملیوں اور منصوبوں کے مطابق اس کی کاشت کی شرح کو بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ سعودی وژن 2030 کے اہداف کا حصول ممکن بنایا جاسکے۔

موسمی فصلوں سے متعلق رپورٹوں کی ایک سیریز میں وزارت زراعت نے بتایا کہ آم سعودی عرب میں اعلیٰ اقتصادی پیداوار کے ساتھ ایک بہترین اور نفع بخش فصل ہے۔ اس کی کاشت کئی علاقوں میں کی جاتی ہے، خاص طور پر جازان میں صبیا، ابو عریش، الدرب، صامطہ اور بیش، مکہ مکرمہ کے علاقے القنفودہ، اللیث اور ادھم، المخواہ اور قلو گورنریوں، الباحہ ، تبوک ساحلی گورنری، عسیر، نجران، المدینہ المنورہ اور مشرقی گورنری میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔

وزارت زراعت نے مزید کہا کہ آم کی پیداوار کا سیزن اپریل سے اگست تک ہوتا ہے۔ اس عرصے کے دوران سعودی عرب مختلف اقسام کے آموں کی بیس سے زائد اقسام پیدا کرتا ہے، جن میں تومی اتکینز، کیت، کینت، الفونس، سکاری، الزبدا، الہندی، الجلن، لنگڑا، ال جولی، سنتیشن، فجر کلاند، السمکہ، عویس، تیمور، نومی، ویلنسیا، تھائی لینڈی اور بریو جیسی اقسام شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں