سعودی عرب کی یمن میں امن کے لیے بات چیت، 13 حوثیوں کو رہا کردیا

ریاض اور تہران کے درمیان تعلقات کی بحالی نے یمن میں جنگ بندی کی امید بحال کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حوثی ملیشیا کی قیدیوں کے امور کی قومی کمیٹی کے سربراہ عبدالقادر المرتضی نے اعلان کیا ہے صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 13 قیدیوں کی آمد ہوئی ہے۔

المرتضیٰ نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ "آج صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سعودی حکام کی طرف سے رہائی پانے والے 13 قیدیوں اور زیر حراست افراد پہنچ گئے ہیں۔ اس کے بدلے پہلے ہی ایک سعودی قیدی کو رہا کردیا گیا تھا۔‘‘ انہوں نے دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کے وسیع تر تبادلے سے قبل اس امید کا اظہار کیا کہ یہ قدم اس ہفتے کے آخر میں طے پانے والے معاہدے کے نفاذ کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔

امن مذاکرات

اے ایف پی کے مطابق سرکاری یمنی ذرائع نے بتایا ہے کہ دوسری طرف عمانی وفد نے صنعا کا دورہ شروع کیا ہے تاکہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے ساتھ ثالثی کے ایک حصے کے طور پر بات چیت کی جاسکے۔ اس بات چیت کا مقصد یمن میں ایک نئی جنگ بندی تک پہنچنے اور سعودی ایرانی ہم آہنگی کے بعد امن عمل کو بحال کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کے حکام اور یمنی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ ریاض اور تہران کے معاہدہ کے بعد سعودی عرب اور ایران میں سفارتی تعلقات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے جس کی روشنی میں جزیرہ نما عرب کے غریب ترین ملک یمن میں سیاسی حل تک پہنچنے کا بھی امکان پیدا ہوگیا ہے۔

صنعا کا ایئرپورٹ حوثیوں کے کنٹرول میں ہے۔ ایئرپورٹ کے سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ عمانی وفد، حوثیوں کے سرکاری ترجمان محمد عبدالسلام کے ہمراہ ایک نئی جنگ بندی پر بات چیت کے لیے صنعاء پہنچا ہے۔ عمان میں مقیم عبدالسلام نے ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا کو وہ اور برادر عمانی وفد دارالحکومت صنعاء پہنچ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے جائز مطالبات یمن سے غیر ملکی افواج کا انخلا، معاوضہ اور تعمیر نو ہیں۔ خیال رہے یمن میں 2014 سے جاری جنگ میں براہ راست اور بالواسطہ طور پر لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اب زیادہ تر آبادی زندہ رہنے کے لیے امداد پر انحصار کر رہی ہے۔

2014 سے سعودی عرب یمن میں قانونی جواز رکھنے والے اتحاد کی قیادت کر رہا اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کر رہا ہے ایران حوثی ملیشیا کی حمایت کرتا ہے۔ اس ملیشیا نے 2014 میں دارالحکومت کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

یمنی حکومتی ذرائع کے مطابق یمنی صدارتی کونسل کے ارکان نے آخر کار مسقط میں عمانی سرپرستی میں سعودی-حوثی مذاکرات کے دو ماہ تک جاری رہنے کے بعد یمنی بحران کے حل کے حوالے سے سعودی وژن پر اتفاق کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سعودی خیال اعتماد سازی کے لیے پہلے مرحلے میں چھ ماہ کی مدت کے لیے جنگ بندی پر اتفاق پر مبنی ہے ۔ سعودی خیال کے مطابق جنگ بندی پر اتفاق کے بعد پھر عبوری مرحلے کے انتظام کے لیے تین ماہ کے لیے مذاکرات کی مدت رکھی جائے۔ یمن میں یہ عبوری حکومت دو سال کے لیے قائم کی جائے۔ دوران تمام فریقوں کے درمیان ایک حتمی حل پر بات چیت کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں۔ ان اقدامات میں سب سے اہم حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں سمیت تمام علاقوں میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی اور بند سڑکوں اور ہوائی اڈے کو کھولنا شامل ہے۔

بدھ کو یمن کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ٹموتھی لینڈرکنگ نے ایرانیوں پر زور دیا تھا کہ وہ واقعی یہ ظاہر کریں کہ وہ تنازع میں مثبت تبدیلی لا رہے ہیںاور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حوثیوں کو ہتھیاروں کی سمگلنگ اب نہیں ہو گی۔

یاد رہے گزشتہ ماہ حوثیوں اور یمنی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ برن میں مذاکرات کے دوران وہ 880 سے زائد قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ کر چکے ہیں۔ یہ معاہدہ جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں تیزی لانے کی نئی علامت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں