شام میں ایک فوجی کمپلیکس اور راڈار پر بمباری کی ہے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران شام کی سرزمین سے مقبوضہ گولان کے پہاڑوں پر راکٹ فائر کئے گئے جس کے جواب میں اسرائیل نے شام میں بمباری کی تھی۔ اب اسرائیل نے انکشاف کیا ہے کہ اس بمباری میں ایک فوجی کمپلیکس اور راڈار کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے شامی فوج کے ایک فوجی کمپاؤنڈ، فوجی ریڈار سسٹم اور شامی افواج کے زیر استعمال توپ خانے پر بمباری کی ہے۔ اسرائیلی فوج نے شامی حکومت کو اپنی سرزمین پر ہونے والی تمام حرکات و سکنات کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا۔

اس سے قبل آج شام کے دار الحکومت دمشق کے اطراف میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے گولان کی پہاڑیوں کی طرف میزائل فائر کرنے کے جواب میں شامی علاقوں پر بمباری شروع کر دی ہے۔ صہیونی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ دو میزائل گولان میں ایک خالی زمین میں گرے اور فضائی دفاعی نظام نے کم از کم ایک میزائل کو روک دیا۔ اسرائیلی فوج نے وضاحت کی کہ "توپ خانے نے اس شامی علاقے پر بمباری کی ہے جہاں سے میزائل داغے گئے تھے"۔

خیال رہے یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب دو روز قبل لبنان سے شمال میں اسرائیلی بستیوں پر راکٹ فائر کیے گئے تھے۔ کسی فریق نے ان راکٹوں کو فائر کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی، تاہم اسرائیل نے قرار دیا کہ ان راکٹوں کو داغے جانے کے پیچھے فلسطینی تنظیم حماس ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد اسرائیل نے جواب میں جنوبی لبنان اور غزہ کی پٹی پر حملے شروع کردئیے تھے۔

مسجد اقصیٰ میں کشیدگی

اسرائیل پر راکٹ فائر کیے جانے کا محرک قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد اقصی پر دو مرتبہ دھاوا بولنا ہے۔

گذشتہ بدھ کو مسجد اقصی میں فلسطینی نمازیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ رمضان المبارک کے وسط میں مسجد سے نمازیوں کو نکالے جانے کے اقدام نے بڑے پیمانے پر مذمت کو جنم دیا۔

واضح رہے سرکاری اسرائیلی اور فلسطینی ذرائع کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک جھڑپوں میں کم از کم 92 فلسطینی اور 18 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں