گرمیوں میں حرم مکی کے فرش کی ٹھنڈک میں کون سا راز پوشیدہ ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خدا کے مقدس گھر میں داخل ہونے کا قصد کرنے والوں کے لیے بیت اللہ کا ننگے پاؤں گرمیوں میں طواف کرنا ایک مشکل امر تھا مگر سعودی عرب کی حکومت نے ضیوف الرحمان کی اس مشکل کا بھی حل نکال لیا ہے۔ اب پچاس ڈگری سینٹی گریڈ میں بھی زائرین کو خرم مکی میں ننگے پاؤں چلتے ہوئےٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔

مگر اس کا سہرا حرم مکی میں استعمال ہونے والے ماربل کے معیار کو جاتا ہے جہاں یہ سنگ مرمر یونان کے جزیرے تھاسوس سے درآمد کیا جاتا ہے اور اسے تھاسوس ماربل کہا جاتا ہے جو روشنی اور حرارت کو منعکس کرتا ہے۔

سنگ مرمر کی سلیں نصب کرنے کا مرحلہ
سنگ مرمر کی سلیں نصب کرنے کا مرحلہ

صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین کے مطابق مسجد حرام میں استعمال ہونے والے سنگ مرمر کی موٹائی 5 سینٹی میٹر تک پہنچ جاتی ہے، کیونکہ یہ دوسروں سے اس لحاظ سے ممتاز ہے کہ یہ رات کے وقت سوراخوں کے ذریعے نمی جذب کرتا ہے اور دن کے وقت اس نمی کو خارج کرتا ہے۔ یہی چیز اسے زیادہ درجہ حرارت کی روشنی میں مستقل طور پر ٹھنڈا کر دیتی ہے۔

الحرم المکی میں لگایا جانے والا منفرد سنگ مرمر
الحرم المکی میں لگایا جانے والا منفرد سنگ مرمر

سنہ 1396ھ میں شاہ خالد رحمہ اللہ کے دور میں مسجد حرام اور مطاف کو اس کی موجودہ شکل میں سال 1398 توسیع دی گئی۔ اس کے فرش کو سنگ مرمر سے مزین کیا گیا۔ اس سنگ مرمر کی بہ دولت گرمیوں کے دنوں میں دوپہر کے وقت نمازیوں اور عازمین حج وعمرہ کو عبادت کے دوران پاؤں میں گرمی محسوس نہیں ہوتی۔

اس حوالے سےبعض غلط قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں کہ مسجد حرام کے فرش کو ٹھنڈہ رکھنے کے لیے آلات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں