گولان میں راکٹ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے ’’ القدس بریگیڈ‘‘ کی حقیقت کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گولان کی پہاڑیوں کی طرف تین راکٹ داغے جانے کے بعد شام میں " القدس بریگیڈ" گروپ نے مقبوضہ شام کے گولان میں اسرائیلی فوج کے مقامات کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ القدس بریگیڈ نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ مسجد اقصیٰ پر حملوں کے جواب میں راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔

دھڑے کی حقیقت

یہ ایک مسلح فلسطینی دھڑا ہے جو شامی حکومت کا وفادار ہے اور شامی فوج کی حمایت کرتا ہے۔ یہ ملیشیا 6 اکتوبر 2013 کو شام کی سرزمین پر قائم کی گئی تھی۔ ملیشیا کی جانب سے جاری بعد کے بیانات میں یہ عہد بھی کیا گیا تھا کہ شام کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے بعد القدس اور پورے فلسطین کو آزاد کرائیں گے۔

"لانگ وار جرنل" کی ایک رپورٹ کے مطابق شام میں روسی فوج کے ساتھ اس دھڑے کے روابط کئی لڑائیوں کے دوران واضح ہو گئے ہیں۔ درحقیقت روسی فوج نے اس کے بہت سے لیڈروں کے گلے میں ہار پہنائے ہیں اور انہیں میڈلز سے نوازا ہے۔

فی الحال’’القدس بریگیڈ‘‘کی سربراہی محمد سعید کر رہے ہیں۔ یہ ملیشیا پانچویں کور سے منسلک ہے اور اسے روس کی حمایت حاصل ہے۔ دیر الزور گورنری میں منتقل ہونے سے پہلے یہ ملیشیا حلب میں پھیلی ہوئی تھی۔

تاہم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے بعد میں ’’ العربیہ‘‘ اور ’’الحادث‘‘ کو بتایا کہ گولان کی طرف راکٹ داغنے کا ذمہ دار دھڑا شام میں "القدس بریگیڈ آف دی ریزسٹنس" ہے۔ یہ لبنانی حزب اللہ کی طرح کی ایک فلسطینی ملیشیا ہے۔ اس دھڑے کے ارکان نے حزب اللہ سے تربیت حاصل کی ہے۔

آبزرویٹری نے بتایا کہ یہ دھڑا روسی فوج سے وابستہ نہیں ہے۔ یہ گروپ شام کے صحرا میں نہیں بلکہ درعا میں موجود ہے۔ یہ گروپ پہلی القدس بریگیڈ سے مختلف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں