"سعودی ٹائٹینک"، شعیبہ سمندر میں 3 دہائیاں قبل ڈوبے لاوارث الفہد بحری جہاز کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے "الاخباریہ" چینل پر نشر ہونے والے "یہاں اور وہاں" پروگرام میں "الشعیبہ" شہر کے متعدد نشانات پر روشنی ڈالی گئی، جو ماضی میں جدہ اسلامی بندرگاہ سے پہلے مکہ مکرمہ کے علاقے کا سمندری دروازہ سمجھا جاتا تھا۔

"الشعیبہ" ایک تاریخی بندرگاہ ہے جو بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ہے۔ یہ قبل از اسلام اور ابتدائی اسلام کے دور میں مکہ مکرمہ کی مرکزی بندرگاہ تھی۔

پروگرام میں کہا گیا ہے کہ شعیبہ کو اب مملکت سعودی عرب کے اہم ترین اقتصادی مراکز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس میں مشرق وسطیٰ میں پانی صاف کرنے کا سب سے بڑا مرکز شامل ہے، جو پورے مکہ مکرمہ کو پانی اور بجلی فراہم کرتا ہے۔

شعیبہ کے ساحل پر ایک مخصوص جگہ ہے جسے "پرانے جہازوں کا قبرستان" کہا جاتا ہے، یہ ایک ایسی جگہ ہے جو ایڈونچر اور رازوں سے پردہ اٹھانے کے شائقین کے لیے دلچسپی کی حامل ہے۔

"شعیبہ" کے ساحل پر موجود "جہاز قبرستان" میں ایک جہاز شامل ہے جو 30 سال سے زیادہ پرانا ہے۔ جہاز کا نام الفہد ہے جو لاوارث جہاز ہے اور ہر کوئی اس کے راز کی تلاش میں ہے۔ الفہد جہاز کو سعودی ٹائی ٹینک کہا جاتا تھا۔ کیونکہ یہ سائز اور شکل میں اس سے مشابہت رکھتا ہے اور جب سے اسے چھوڑا گیا یہ اسی حالت میں پڑا ہے۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ اس علاقے میں بحری جہاز پھنس گئے تھے جو کہ ’جہاز قبرستان‘ کے نام سے مشہور ہو چکا ہے اور وہ مرجان کی چٹانوں سے ٹکرانے کی وجہ سے اس سے باہر نہیں نکل سکتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں