"سپورٹس واشنگ" کے جملے پر سعودی وزیر کھیل کا جواب دیکھیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پر سکون اور چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ سعودی وزیر کھیل شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل نے پروگرام "60 دقیقہ" میں

"سپورٹس واشنگ" کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیا ہے۔ براڈکاسٹر جان ورتھیم نے سوال پوچھا کہ کیا آپ نے امریکی چینل ’’ سی بی ایس‘‘ پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں جملے ’’سپورٹس واشنگ‘‘ اور اس کے اثرات کے متعلق سنا ہے۔ نوجوان وزیر نے جواب دیا "میں اس اصطلاح سے بالکل متفق نہیں ہوں، بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہر کسی کو سعودی عرب آنا چاہیے اور اس کی اصل تصویر دیکھنا چاہیے اور پھر خود دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ کھیلوں کے ایونٹس اور بڑے میچ جو کچھ عرصے سے ہو رہے ہیں وہ پوری دنیا کے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے موزوں ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیلوں کے بڑے مقابلوں کی میزبانی سعودیوں اور ملک میں سماجی زندگی کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔

یاد رہے 3 سال سے زیادہ عرصے سے مملکت نے کئی شعبوں میں مختلف بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کی ہے۔ ان کھیلوں میں فٹ بال ، ٹینس، باکسنگ، فارمولا 1، گھڑ دوڑ اور دیگر کھیل شامل ہیں۔ سعودی کلب ’’النصر‘‘ نے حال ہی میں عالمی فٹ بال سٹار کرسٹیانو رونالڈو کو بھی اپنی ٹیم میں شامل کرلیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں