ایران نے زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیوں کی آڑ میں شام کو اسلحہ پہنچایا: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایرانی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ذرائع کے مطابق ایرانی حکومت نے اپنے اتحادی شام کو زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیوں کی آڑ میں اسلحہ اور فوجی ساز و سامان فراہم کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کی خصوصی رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے اسلحے کی فراہمی کا مقصد شام میں موجود ایرانی تنصیبات کو اسرائیلی حملوں سے محفوظ بنانا اور شامی صدر بشار الاسد کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مضبوط بنانا تھا۔

شمالی شام اور عراق میں چھ فروری کو آنے والے ہولناک زلزلے کے بعد شام کے شہروں حلب، دمشق اور الاذقیہ میں سینکڑوں ایرانی فلائٹس امدادی سامان لے کر پہنچی۔ ذرائع کے مطابق ان فلائٹس کا یہ سلسلہ سات ہفتوں تک جاری رہا۔

رائیٹرز کے ذرائع کا کہنا تھا کہ اس امدادی سامان کی آڑ میں کمیونیکیشن کا جدید ترین سامان، ریڈار اور ایران کے فراہم کردہ دفاعی نظام کو اپ گریڈ کرنے کے لئے ضروری سامان شام پہنچایا گیا۔

رائیٹرز کے مطابق انہوں نے یہ معلومات اپنے مغربی انٹیلی جنس اور ایرانی و اسرائیلی قیادت کے قریب موجود اپنے ذرائع سے حاصل کی ہیں۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق ایران کے اقوام متحدہ میں موجود سفارتی مشن سے جب اس بابت سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ "اس بات میں کوئی صداقت نہیں۔"

رائیٹرز کے خطے میں موجود ذرائع کے مطابق اسرائیل کو جلد ہی شام میں اسلحے کی آمد کا علم ہوگیا اور اس نے جارح حکمت عملی سے اس کا مقابلہ شروع کیا۔

اسرائیل کے بریگیڈئیر جنرل یوسی کوپر واسر کے مطابق اسرائیل کے پاس اس قدر تفصیلی انٹیلی جنس موجود تھی کہ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ قافلے کے کس ٹرک کو نشانہ بنانا ہے۔

شامی فوج کے ایک باغی فوجی افسر کرنل عبدالجبار العکیدی کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ایرانی ملیشیا کی قیادت کی ایک میٹنگ اور الیکٹرانک چپس کی ایک کھیپ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی قیادت کے قریب موجود ایک ذریعہ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ "شام میں زلزلہ ایک الم ناک واقعہ تھا مگر یہ ساتھ ہی ہمارے لئے اپنے شام میں موجود بھائیوں کی مدد کا خدا کی طرف سے بھیجا گیا سنہری موقع ثابت ہوا۔ ہم نے فورا شام میں بڑی تعداد میں اسلحہ بھیجا۔"

شام کے ایک فوجی افسر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے شام میں ایرانی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "ایسا اب کیوں ہو رہا ہے؟ اس کی سادی سی وضاحت یہی ہے کہ اسرائیل کو معلوم ہے کہ یہاں بہت تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔ اسرائیل کو ان سرگرمیوں کو روکنے یا رفتار کم کرنے کے لئے فضائی حملے کرنا پڑیں گے۔زلزلے کے بعد حالات بہت تیزی سے تبدیل ہوئے جس کے نتیجے میں ایرانی طیاروں کو باآسانی شام پہنچنے کا موقع مل گیا۔"
مغربی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق شام میں 3 اپریل کے زلزلے کے بعد سے اسرائیل نے دمشق کے جنوب میں موجود جبل منائے کسوہ کے علاقے میں ہتھیاروں کے گودام سمیت مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں