تاریخی مساجد بحالی پروگرام کے تحت جامع مسجد ضباء کی مرمت واصلاح کا کام جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے تاریخی مساجد کی بحالی اور ان کی مرمت وتزئین آرائش پروگرام کے تحت تبوک کے علاقے کی تاریخی مسجد ’الضباء’ کی مرمت اور اس کے فن تعمیر کو تازہ کیا جا رہا ہے۔

یہ مسجد ملاحوں کی ملاقات کی جگہ تھی جب وہ ضبا کی بندرگاہ پر پہنچتے تو یہاں پر ملتے تھے۔ یہ مسجد چار مرتبہ تعمیر کی گئی، جن میں سے پہلی مسجد العرینی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے پتھروں سے تعمیر کی تھی۔

جب کہ اس کی دوسری تعمیر عبداللہ بن سلیم نے کی جوالسنوسی کے نام سے جانے جاتے تھے۔مسجد کی تیسری تعمیر شاہ عبدالعزیز مرحوم نے اپنی ذاتی جیب سے1373ھ میں کی جب کہ مسجد کی چوتھی بار تعمیر شاہ فہد بن عبدالعزیز آل سعود کے دور میں ہوئی۔

شہزادہ محمد بن سلمان کے تاریخی مساجد کی ترقی کے منصوبے کے تحت الجامع مسجد ضبا کا رقبہ 947.88 مربع میٹر سے بڑھا کر 972.23 مربع میٹر کیا گیا ہے جب کہ اس کی گنجائش 750 نمازیوں سے بڑھ کر 779 تک پہنچ جائے گی۔ تعمیراتی کام کے دوران مسجد کے تاریخی فن تعمیر کو برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ منصوبہ الجامع مسجد ضبا کو بحیرہ احمر کے فن تعمیر سے متاثر انداز میں تیار کرے گا، جس میں قدرتی مواد کو استعمال کیا جائے گا۔ اس قدرتی مواد میں بھوسے (گھاس) کے علاوہ پتھر اور مٹی شامل ہیں، جبکہ مشربیات اور کھڑکیوں میں لکڑی کا استعمال کیا جاتا ہے۔

منصوبے کا مقصد سعودی عرب کی اسلامی تہذیب کو نمایاں کرنا اور تاریخی مقامات کی زندگی کو بحال کرنا ہے۔ اسی طرح ایسے انسانی، ثقافتی اور فکری ماحول کی تشکیل دینا ہے جس میں تاریخی اور سماجی اثرات نمایاں ہوں۔

شہزادہ محمد بن سلمان کا تاریخی مساجد کی ترقی کے منصوبہ میں جامع مسجد ’’ضبا‘‘ مسجد کو سعودی عرب کے مغربی علاقے کے طرز تعمیر کے مطابق بحال کیا جارہا ہے۔ مسجد کے اگلے حصے میں راوشین اور مشرابیاں ہیں جس میں آگے نکلی ہوئی کھڑیاں اور بالکونیاں ہوتی ہیں۔ ان کھڑکیوں اور اور بالکونیوں میں لکڑی کے پینل استعمال کیے گئے ہیں۔

یہ عمارت ساحل پر ارد گرد کے قدرتی حالات کا مقابلہ کرنے والے سعودی مغربی خطے کے تعمیراتی انداز کی خصوصیت رکھتی ہے۔ اس میں موجود تاریخی مساجد فن تعمیر کے شاہکار ہیں جو مولڈ اینٹوں، جپسم اور لکڑی پر مشتمل ایک وسیع عمارتی ثقافت کی عکاسی کرتی ہیں۔

تاریخی مساجد کی ترقی کے لیے شہزادہ محمد بن سلمان کا منصوبہ قدیم اور جدید تعمیراتی معیارات کے درمیان توازن کو اس طرح حاصل کرنا چاہتا ہے جس سے مساجد کے اجزاء کو مناسب حد تک پائیداری بھی مل جائے گی۔ ترقی کے اثرات کو ورثے کے ایک سیٹ کے ساتھ مربوط کیا جارہا ہے۔ تاریخی مساجد کی بحالی منصوبے کے دوسرے مرحلہ میں سعودی عرب کے 13 خطوں میں 30 مساجد کی تزئین و آرائش کرکے انہیں نئے سرے سے بحال کیا جارہا ہے۔ اس سے قبل شہزادہ محمد بن سلمان کے اس پراجیکٹ کے پہلے مرحلے میں 10 خطوں کی 30 مساجد کو بحال کیا جا چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں