یمن: قیدیوں کے تبادلے کا عمل جمعرات سے جمعہ تک ملتوی کردیا گیا

قیدیوں کا تبادلہ تین روز تک جاری رہے گا: قیدیوں سے متعلق مذارات میں شامل حکومتی ترجمان ماجد فضائل کا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک یمنی عہدیدار نے آج بدھ کو حوثیوں کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے عمل کو جمعرات سے جمعہ تک ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکی ایلچی کی آمد کے ساتھ تنازع کو حل کرنے کی کوشش میں سفارتی رفتار بڑھ رہی ہے۔ .

قیدیوں کے مذاکرات کے لیے حکومتی وفد کے ترجمان اور مذاکراتی وفد کے رکن اور انسانی حقوق کی وزارت کے انڈر سیکریٹری ماجد فضائل نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بتایا ہے کہ بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ تبادلے کا عمل جمعے کی صبح شروع ہوگا اور تین دن تک چلے گا۔

فضائل نے پہلے اعلان کیا تھا کہ تبادلے کا عمل جمعرات کو شروع ہوگا اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے صنعا اور عدن (جنوبی)، المخا (مغرب) اور مارب (وسطی شمال) کے درمیان ریڈ کراس کی جانب سے پروازیں چلائی جائیں گی۔ فضائل نے تاخیر کی وجہ واضح نہیں کی۔

یاد رہے مارچ میں حوثیوں اور یمنی حکومت نے برن میں ہونے والے مذاکرات کے دوران 880 سے زائد قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ کیا تھا ۔ اس معاہدے کو جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں تیزی کی نئی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ معاہدے کے تحت حوثی حکومتی فورسز کے زیر حراست 706 قیدیوں کے بدلے 181 قیدیوں کو رہا کردیں گے۔

ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے مطابق اکتوبر 2020 میں ہونے والے قیدیوں کے آخری بڑے تبادلے میں 1,050 سے زیادہ قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں