"النقصہ'': صدیوں پرانی عرب روایت جو ٹیکنالوجی اور جدت کے ساتھ پھل پھول رہی ہے

النقصہ کسی ایک ملک یا معاشرے سے مخصوص نہیں بلکہ تمام عرب خلیجی ممالک کی رمضان المبارک سے وابستہ عام روایت ہے۔ جس کا مقصد لوگوں کے درمیان سماجی رابطے اور قربت میں اضافہ ہوتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے شہر الاحسا میں نورہ العلی مغرب کی آذان سے ذرا دیر پہلے کھانے کا تھال سجا رہی ہیں جو وہ پڑوسیوں کے ہاں افطار کے لیے بھیجیں گی۔ یہ یہاں کی قدیم روایت "النقصہ" ہے جس میں لوگ اپنے کھانے کا کچھ حصہ پڑوسی کو بھیجنا لازمی سمجھتے ہیں۔

اسی دوران لڑکے بالے افطار سے ذرا پہلے پڑوسیوں رشتہ داروں اور دیگر احباب کے لیے کھانوں کے تھال اٹھائے محلوں میں گھومتے نظر آتے ہیں۔ جہاں برتن خالی لوٹانے کی بجائے انہیں اپنے ہاں کے کھانے سے بھر دیا جاتا ہے۔ ان کھانوں میں الهريس، والجريش، واللقيمات، والشعيرية أو البلاليط، والثريد جیسے مقامی پکوان شامل ہیں۔

بہ شکریہ انڈیپنڈنٹ عربی
بہ شکریہ انڈیپنڈنٹ عربی

تاہم یہ کسی ایک ملک یا معاشرے سے مخصوص نہیں بلکہ تمام عرب خلیجی ممالک کی رمضان المبارک سے وابستہ عام روایت ہے۔ جس کا مقصد لوگوں کے درمیان سماجی رابطے اور قربت میں اضافہ ہوتا ہے۔

رمضان کا بابرکت مہینہ نسل در نسل چلنے والی روایات سے جڑا ہوا ہے، جن میں سے کچھ اب تک جاری ہیں، کچھ متروک ہو چکی ہیں اور بعض اپنی چمک دمک کھوتے ہوئے ترقی کے غلبہ میں ہیں۔

ایسے میں النقصہ کی روایت نہ صرف اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ بلکہ جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہوئے نت نئی شکلیں اختیار کر کے پھل پھول رہی ہے۔

روزہ دار اس نیک کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ افطاری کا سامان بانٹنے کا مقابلہ ہے۔

النقصہ کا مفہوم؛ محبت وایثار

النقصہ اگرچہ تحائف کی ایک صورت ہے مگر اس کا مفہوم زیادہ گہرائی سموئے ہوئے ہے۔

النقصہ سے مراد اپنے ملکیت سے اپنے بھائی کے لیے ''نقص'' یعنی کم کر دینا یا دوسرے الفاظ میں اپنی ضرورت سے بڑھا دینا ہے۔

خوبصورت بات یہ ہے کہ اس کا تعلق محض اشیاء کے تبادلے سے نہیں ہے، بلکہ اس کی اصل روح یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے کے لیے برادرانہ محبت کی وجہ سے منافع بخش مال سے دستبردار ہو سکتا ہے۔

رمضان اور النقصہ میں ربط

رمضان جہاں عبادت کے ذریعے قرب الہی کے حصول کا وقت ہے وہیں مساوات پر مبنی سماجی تعلقات کے فروغ کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے

نورہ کا کہنا ہے کہ ''اگرچہ کھانا بانٹنے کی یہ رسم دیگر مواقع پر جیسے کہ تہواروں، تقریبات پر بھی نظر آتی ہے مگر ماہ رمضان کے ساتھ اس کا تعلق ماضی کی خوبصورت عادات کی وجہ سے ہے۔ جہاں خواتین جب کھانا تیار کرتیں تو خاندان کا سربراہ اس کھانے کا کچھ حصہ کم کر دیتا تھا، جسے پڑوسی کے ہاں بھیجا جاتا اور کہا جاتا کہ یہ فلاں نے آپ کے لیے النقصہ کی ہے۔

بہ شکریہ انڈیپنڈنٹ عربی
بہ شکریہ انڈیپنڈنٹ عربی

اس رسم کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ جو استطاعت نہیں رکھتے ان کے دستر خوان پر بھی افطار کے وقت مختلف پکوان ہوتے ہیں۔

اسی طرح مذہبی لحاظ سے بھی اس کی اہمیت ہے کیونکہ دین اسلام میں پڑوسی سے حسن سلوک کا بار ہا حکم دیا گیا ہے۔

النقصہ اور جدیدیت

آج کل النقصہ کے لیے پر تعیش کھانوں اور پیکنگ کے لیے ٹوکریوں، یا مبارکبادوں سے مزین ڈبوں کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔

تاہم اب یہ صرف کھانے تک محدود نہیں ہے، بلکہ لباس، بہترین قسم کے بخور اور بہترین قسم کی کافی، کھجور اور مٹھائیاں بھی احباب کو بھیجی جاتی ہیں۔

الیکٹرانک النقصہ

قدیم ادوار میں ذرائع آمدورفت محدود تھے اس لیے النقصہ کا تصور بھی زیادہ تر محلوں تک محدود رہا تاہم دور جدید میں نقل و حمل اور ذرائع ابلاغ میں جدت اور آسانی کے بعد یہ تصور بھی ترقی کرتا گیا۔

آج کل النقصہ جدید الیکٹرانک ذرائع اور جدید طریقوں جیسے مواصلاتی کمپنیوں اور ایپلی کیشنز سے منسلک ہے۔ ان لائن اسٹورز پر آپ مختلف اشیاء پر مبنی النقصہ پیکج اقارب کو بھیج سکتے ہیں۔

بہ شکریہ انڈیپنڈنٹ عربی
بہ شکریہ انڈیپنڈنٹ عربی

یہ اسٹور مختلف بجٹ کے مطابق مختلف شکلوں اور اقسام کی النقصہ فراہم کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا اور بصری انقلاب بھی رمضان سے وابستہ روایات کو فروغ دینے کا اہم ذریعہ بن گیا ہے۔

اسی طرح کرونا وبا کے بعد بھی النقصہ فراہم کرنے والی کمپنیوں نے آن لائن سٹوروں پر انحصار بڑھا دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں