باب کعبہ کے پاس نایاب سنگ مرر کے 8 ٹکڑوں کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مسجد حرام میں شاندار سنگ مرمر کے 8 ٹکڑے، جنہیں آپ شاذروان پر خانہ کعبہ کے دروازے کے دائیں طرف دیکھیں گے تو جان جائیں گے کہ یہ دنیا کے نایاب ترین اقسام میں سے ایک ہے جسے "میری سٹون" کہا جاتا ہے۔

یہ قیمتی پتھر زرد بھورے رنگ کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ یہاں نصب یہ پتھر 807 سال قدیم ہیں۔

امور حرمین شریفین کے ایک محقق محی الدین الہاشمی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کی کہ یہ ٹکڑے خلیفہ ابو جعفر المنصور کی جانب سے اس وقت تحفتا دیئے گئے تھے جب وہ مسجد حرام میں صحن مطاف کی بحالی کا کام کروا رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایک نیلے پتھر کے نیچےکندہ تاریخ سے بھی اس کی قدامت کا اندازہ ہوتا ہے۔

سنگ مرمر کے پتھر
سنگ مرمر کے پتھر

الہاشمی نے بتایا کیا کہ ٹکڑوں پہ موجود نقوش اور ان کا حجم حیران کن ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑے پتھر کی لمبائی 33 سینٹی میٹر اور چوڑائی 21 سینٹی میٹر ہے۔

الہاشمی نے کہا کہ مورخین نے ذکر کیا ہے کہ آٹھ قیمتی پتھر "المعجن "کے مقام پر نصب کیے گئے تھے، تاہم وہ " صحن المطاف سے نیچے کی جگہ ہے اور اس کے برعکس ہے جہاں اب سنگ مرمر نصب ہیں"۔

مورخین کے مطابق یہ وہ جگہ ہے جہاں جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام کے آغاز میں نماز پڑھنے کا طریقہ سکھایا تھا۔

الہاشمی کا کہنا ہے کہ ان پتھروں کو المعجن کے مقام سے ہٹا کر شاذروان پر باب کعبہ کے دائیں طرف نصب کرنے کے پیچھے ایک اہم واقعہ ہے۔

انہوں نے بیان کیا کہ المعجن میں سفید ریت سے جوڑے گئے یہ قیمتی پتھر سنہ 1213 ہجری میں چوری ہو گئے تھے۔ سنہ 1377 ہجری میں یہ پتھر ایسے شخص کے ترکے میں دریافت ہوئے جو مر چکا تھا۔

مگر اس دوران المعجن کی خالی جگہ کو زائرین کی نقل وحرکت میں آسانی کے پیش نظر بھر دیا گیا تھا۔ اور دوبارہ ان پتھروں کو موجودہ جگہ یعنی باب کعبہ کے دائیں جانب نصب کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں