خلیج تعاون کونسل کا اجلاس آج ، شام کی عرب لیگ میں واپسی پر غور ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آج جمعہ کو سب کی نظریں جدہ کی طرف ہوں گی جہاں خلیج تعاون کونسل کے ممالک کا اجلاس ہو رہا ہے ۔ اجلاس میں مصر، عراق اور اردن بھی شرکت کر رہے ہیں۔ سعودی عرب میں ہونے والے عرب سربراہی اجلاس سے تقریباً ایک ماہ قبل اس اجلاس میں شام کی عرب لیگ میں واپسی کے معاملہ پر بات چیت ہوگی۔ شام کی رکنیت 2012 سے معطل ہے۔ باخبر عرب ذرائع نے بتایا ہے کہ اجلاس میں اس معاملہ پر حتمی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔

الشرق الاوسط کے مطابق ایک عرب سفارتی ذریعہ نے بتایاہے کہ شام کو عرب لیگ میں واپس کرنے کے فیصلہ پر ابھی تک بات چل رہی ہے۔ اور کئی فعال عرب دارالحکومتوں کے درمیان جاری مشاورت میں ایک مثبت ماحول موجود ہے۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ شام کے وزیر خارجہ فیصل المقداد کے کئی عرب دارالحکومتوں کے شٹل دوروں اور اس سے قبل 6 فروری 2023 کے زلزلے کے بعد شام کے میدان میں جو میل جول اور سفارتی نقل و حرکت دیکھنے میں آئی، اس صورتحال نے کئی ملکوں کے موقف میں نرمی لانے میں کردار ادا کیا ہے۔

مزید برآں ذریعہ نے واضح کیا ہے کہ شام کی عرب لیگ میں واپسی کی مخالفت کرنے والے عرب ملکوں کی تعداد پہلے سے کم دکھائی دے رہی ہے۔

بدھ کے روز شام کے وزیر خارجہ فیصل المقداد نے جدہ کا دورہ کیا جو شام میں تنازع کے آغاز پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات منقطع ہونے کے بعد سعودی عرب کا پہلا سرکاری دورہ تھا۔ شامی وزیر خارجہ نے اپنے اس دورہ میں سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کی ۔

ملاقات کے بعد دونوں وزراء نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ گفتگو میں شام کی عرب ماحول واپسی کے لیے ایک تصفیہ کے حصول کے لیے اور اتحاد برقرار رکھنے کے لیے سیاسی حل تلاش کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ شامی اور سعودی وزرائے خارجہ کی گفتگو میں شامی حکومت کو اپنا کنٹرول بڑھانے، مسلح ملیشیاؤں کی موجودگی کو ختم کرنے اور منشیات کی سمگلنگ سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ یاد رہے عرب وزرائے خارجہ نے شام میں مظاہروں اور انقلاب کے پھوٹ پڑنے کے تقریباً 8 ماہ بعد نومبر 2011 میں قاہرہ میں منعقد ایک ہنگامی اجلاس کے بعد 18 ممالک کی اکثریت سے شام کی عرب لیگ کی رکنیت معطل کر دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں