عالمی سرمایہ کاری کا مرکز بننے کا سفر، سعودی عرب میں 4 نئے اقتصادی زونز کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کو چار خصوصی اقتصادی زونز کے آغاز کا اعلان کردیا جس سے سعودی معیشت کو ترقی دینے اور متنوع بنانے اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کی خواہش کی عکاسی ہوتی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس اقدام سے خادم حرمین شریفین کی قیادت میں سعودی عرب کی عالمی سرمایہ کاری کی ایک سرکردہ منزل کے طور پر قدر و منزلت نمایاں ہوتی ہے۔

سٹریٹجک مقامات

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ یہ خصوصی اقتصادی زونز ترقی کے نئے افق کھولیں گے۔ ان اقتصادی زونز سے ہر خطے کے مسابقتی فوائد پر انحصار کرتے ہوئے اہم اور امید افزا شعبوں کو سپورٹ ملے گی۔ اس سے لاجسٹکس، صنعت، ٹیکنالوجی اور مملکت کے لیے دیگر اہم شعبے فائدہ اٹھائیں گے۔ اقتصادی زونز ریاض، جازان، راس الخیر اور جدہ کے شمال میں اقتصادی شہر کنگ عبداللہ سٹی میں قائم کیے جائیں گے ۔ یہ سب اہم سٹریٹجک مقامات ہیں۔

قانون سازی کے نظام اور خصوصی ضوابط

شہزادہ محمد بن سلمان نے وضاحت کی کہ خصوصی اقتصادی زونز قانون سازی کے نظام اور اقتصادی سرگرمیوں کے لیے خصوصی ضوابط سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ بات ان زونز کو دنیا کے سب سے زیادہ مسابقتی بنا دے گی تاکہ سب سے اہم معیاری سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔ اس سے مقامی معیشت کی ترقی کے لیے زبردست مواقع ملیں گے۔ روزگار کے مواقع، صنعتوں کی تخلیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور لوکلائزیشن کی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ سعودی ’’ویژن 2030‘‘ کےتحت یہ اقدام سعودی کمپنیوں کو سپلائی چین کی تمام سطحوں اور مختلف شعبوں میں خصوصی اقتصادی زونز کے ذریعے اضافی ویلیو سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے گا۔

لاجسٹکس پلیٹ فارمز

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ کہ خصوصی اقتصادی زون مربوط لاجسٹک اور صنعتی پلیٹ فارم تشکیل دیتے ہیں جو سرمایہ کار کے ارد گرد مرکوز ہوتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے تاکہ سرمایہ کاری کا ایک غیر معمولی تجربہ فراہم کیا جا سکے اور مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے لیے ٹرانزٹ گیٹ وے کے طور پر سعودی عرب کی پوزیشن کو مستحکم کیا جا سکے۔ مشرق اور مغرب کی مارکیٹوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان زونز کے آغاز سے سعودی عرب سرمایہ کاری کے لیے ایک عالمی منزل بن رہا ہے۔ سعودی عرب ایک اہم مرکز ہے جو عالمی سپلائی چینز کو سپورٹ کرتا ہے۔ خاص طور پر سپیشل انٹیگریٹڈ لاجسٹک زون کے آغاز کے بعد سعودی عرب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

مسابقتی ٹیکس کی شرح

واضح رہے ان چار خصوصی اقتصادی زونز کی کی سرگرمیوں کو خصوصی اقتصادی شہروں اور زونز اتھارٹی کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہ زونز ایک طویل مدتی پروگرام کے پہلے مرحلے کی نمائندگی کرتے ہیں جس کا مقصد بین الاقوامی کمپنیوں کو راغب کرنا، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا مستقبل کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

کمپنیوں کے لیے مراعات میں مسابقتی ٹیکس کی شرحیں، درآمدات کے لیے کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ، پیداواری معلومات، مشینری اور خام مال کی دستیابی، 100 فیصد غیر ملکی ملکیت اور بہترین عالمی انسانی وسائل کو راغب کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں