مقتدی الصدر کا اپنی تحریک ایک سال کیلئے منجمد کرنے کا اعلان، ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مقتدی الصدر نے اپنی تحریک ایک سال کیلئے منجمد کردی اور اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی بند کردیا۔ عراق میں ’’صدرسٹ تحریک‘‘ کے رہنما مقتدیٰ الصدر نے آج جمعہ کو ’’صدرسٹ تحریک‘‘ کو پورے ایک سال کے لیے منجمد کرنے کا اعلان کردیا۔

انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ عراق کے لیے مصلح ہونا گناہ ہے اور میں صدرسٹ تحریک کی اصلاح نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا اس حال میں کہ تحریک میں کچھ بدعنوان افراد بھی ہیں اس کی قیادت جاری رکھنے میں بڑا نقصان ہے۔

انہوں نے تحریک کو ایک سال کے لیے منجمد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مزید کہا لہذا میں اس تحریک کو مکمل طور پر منجمد کرنا مفاد میں سمجھتا ہوں سوائے جمعہ کی نماز اور ہیریٹیج اتھارٹی کے۔ یہ انجماد ایک سال سے کم نہ ہوگا۔ سب سے پہلے میں اپنے رب کے سامنے اور پھر اپنے والد کے سامنے اس سب سے اپنی لاتعلقی کا اعلان کرتا ہوں۔

یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب صالح محمد العراقی، جو مقتدی الصدر کے وزیر کے نام سے مشہور ہیں، نے چند گھنٹے قبل اعلان کیا تھا کہ صدر تحریک کے رہنما نے کوفہ کی مسجد میں "عوام کی وجہ سے اعتکاف کو منسوخ کر دیا ہے "

مقتدی الصدر کے وزیر نے "اعتکاف کی منسوخی" کے بارے میں مزید تفصیلات واضح نہیں کی تھیں۔ یہ بھی واضح نہیں کیا تھا کہ ٹویٹ میں ان کا مطلب کس شخصیت سے ہے۔

واضح رہے مقتدی الصدر نے اگست 2022 میں سیاسی کام سے اپنی حتمی ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد ان کے حامیوں نے گرین زون میں متعدد سرکاری اداروں اور ریپبلکن پیلس پر دھاوا بول دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں