یمن: قیدیوں کے تبادلے کا دوسرا دن، ابھا سے 120 قیدیوں کو لیکر طیارہ صنعا پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن میں قانونی حکومت اور حوثیوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے دوسرے دن بھی قیدیوں کا تبادلہ جاری رہا۔ تین دن کے دوران 6 ایئرپورٹس سے 15 پروازوں کے ذریعہ لگ بھگ 800 قیدیوں کے تبادلے کا آپریشن مکمل کیا جانا ہے۔ آج ہفتہ کا دن اس آپریشن کا دوسرا دن ہے۔ کل اتوار کو بھی قیدیوں کا تبادلہ جاری رہے گا۔

ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کی میڈیا ایڈوائزر جیسیکا موسن نے اے ایف پی کو بتایا کہ آج ہفتہ کو پہلا طیارہ جنوبی سعودی عرب کے ابہا سے صنعاء کے لیے روانہ ہوا جس میں 120 سابق قیدی سوار تھے۔

قیدیوں کے مذاکرات کے لیے حکومتی وفد کے ترجمان مذاکراتی وفد کے رکن اور وزارت انسانی حقوق کے انڈر سیکریٹری ماجد فضائل نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا کہ آپریشن کا دوسرا مرحلہ قیدیوں کے حوالے سے ہوگا۔ قیدوں کا تبادلہ المخا صنعاء، ابھا صنعاء اور صنعاء ریاض کے ایئرپورٹس کے درمیان 6 پروازوں کے ذریعہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ المخا سے صنعاء کے لیے تین پروازیں کل 100 حوثی قیدیوں کو لے کر روانہ ہوں گی۔ دوسری پرواز صنعاء سے ریاض جائے گی۔ اور عفاش طارق اور بریگیڈیئر جنرل محمد صالح کے بیٹے اور بھائی صدارتی لیڈرشپ کونسل کے نائب بریگیڈیئر جنرل طارق صالح کو لے کر جائے گی۔ آخر میں دو پروازیں ابہا ایئرپورٹ سے صنعاء کے لیے روانہ ہوں گی۔ ان دو پروازوں میں 250 قیدیوں کو منتقل کیا جائے گا۔

سابق صدر کے بھائی اور وزیر دفاع کی رہائی

دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا پہلا مرحلہ جمعہ کو شروع ہوا تھا جب انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے طیاروں نے دارالحکومت صنعا اور عدن سے 318 قیدیوں کو منتقل کیا۔

حوثی گروپ نے سابق وزیر دفاع محمود السبیحی اور سابق صدر ناصر منصور ہادی کے بھائی سمیت 69 افراد کو رہا کردیا۔ یہ افراد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کے تحت آتے ہیں۔ حکومت نے 249 قیدیوں کو رہا کیا جنہیں عدن سے دو پروازوں کے ذریعہ صنعاء منتقل کیا گیا تھا۔

یمن کے وزیر داخلہ ابراہیم علی احمد حیدر نے وضاحت کی ہے کہ یہ آپریشن، جو سعودی عرب اور اتحاد کی حمایت پر کیا گیا، برسوں میں سب سے بڑا آپریشن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ آپریشن عید الفطر کے بعد بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کے بعد امن عمل کے حوالے سے مزید مفاہمتیں آ رہی ہیں۔

یاد رہے کہ اکتوبر 2020 میں ہونے والے قیدیوں کے آخری بڑے تبادلے میں بین الاقوامی کمیٹی آف ریڈ کراس کے مطابق 1,050 سے زیادہ قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں