سعودی عرب میں عید الفطر کے لیے مساجد اور عیدگاہوں کی تعداد کتنی ہے؟

جمعہ کو عیدالفطر کی نماز ادا کرنے والے جمعہ کی نماز کی رخصت کرسکتےہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور ودعوت و ارشاد نے مملکت بھرکی 20,714 جامع مساجد اور اوپن نمازگاہوں کو نماز عیدالفطر کی ادائی کے لیے تیار کیا ہے۔

وزارت مذہبی امور نے مملکت میں عیدالفطرکی ادائی کی نگرانی کے لیے 6,000 سے زیادہ مبصرین اور مانیٹروں مقرر کیا ہے جو نماز عیدالفطر سے قبل مساجد میں موجود ہوں گے اور مساجد میں نمازیوں کو سہولیات کی فراہمی میں مدد کریں گے۔

یہ نگران ٹیمیں مساجد میں کسی بھی قسم کی شکایت کی صورت میں متعلقہ حکام کو مطلع کریں گی اور تفویض کردہ اپنی ذمہ داریوں کو کماحقہ اداکریں گی۔

عید کی نماز

وزارت مذہبی امور کی طرف سے مساجد کی انتظامیہ کوآگاہ کیا گیا ہے کہ وہ عیدالفطر کے حوالے سے تمام ضروری اقدامات کریں۔ عیدالفطر جمعہ کے روز ہونے کی صورت میں دونوں نمازوں کےایک دن ہونے کےحوالے سے فتوے پر عمل کریں گے۔

اس حوالے سےفتویٰ یہ ہے کہ اگر عید جمعہ کے روز ہو تو اس صورت میں نمازی حضرات ایک نماز میں شامل ہو سکتے ہیں اور دوسری کی رخصت کرسکتے ہیں۔ اگر وہ عیدالفطر کی نماز مسجد میں با جماعت ادا کریں توان کے لیے جمعہ کی نماز ادا کرنا ضروری نہیں وہ ظہر کی نماز ادا کرسکتے ہیں۔ البتہ اگرکوئی مسلمان عید کی نماز میں شامل نہیں ہوسکا تواس پر جمعہ کی نماز واجب ہے۔

البتہ مساجد کے آئمہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ جمعہ کے روز عید الفطر کے بعد اپنے وقت پرجمعہ کی نماز کا اہتمام کریں، پھر جو مسلمان چاہئے وہ اس میں شرکت کرے جس نے عیدالفطر کی نماز ادا کی ہو وہ رخصت کرسکتا ہے۔

اور اس نے اس بات پر زور دیا کہ - فتویٰ کے مطابق - جمعہ کی مسجد کے امام کو اس دن جمعہ کی نماز ادا کرنی چاہیے، ان لوگوں کے لیے جو اس کی گواہی دینا چاہتے ہیں اور جو لوگ عید کا مشاہدہ نہیں کرتے ہیں، اگر وہ اس تعداد میں شرکت کرے جس میں جمعہ نماز ہوتی ہے، ورنہ ظہر کے وقت پڑھتا ہے، اور جو شخص عید کی نماز میں حاضر ہو اور جمعہ نہ آنے کا مجاز ہو تو وہ دوپہر کو پڑھتا ہے، اس کا وقت گزر جانے کے بعد، اذان صرف ان مساجد میں مشروع ہے جہاں جمعہ کی نماز ہوتی ہے۔ .

مقبول خبریں اہم خبریں