سلطنت عمان: مردو خواتین کو بغیر منظوری غیر ملکیوں سے شادی کی اجازت دیدی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عمان کے سلطان ہیثم بن طارق نے عمانی مردوں اور عورتوں کی غیر ملکیوں سے شادی کے حوالے سے ایک فرمان جاری کیا ہے جس کے بعد غیر ملکیوں سے بغیر اجازت لیے بھی نکاح کرنے کو جائز کردیا گیا ہے۔

عمانی نیوز ایجنسی کی طرف سے شائع حکم نامے کے مطابق اس شاہی فرمان کی منسوخی کا کہا گیا جس میں عمانیوں کی غیر ملکیوں سے شادی کو ریگولیٹ کرنے کا کہا گیا تھا اور مختلف شرائط عائد کی گئی تھیں۔ اسی طرح حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس حکم نامے کی دفعات کو اسلامی قانون یا امن عامہ کی دفعات اور قوانین، شاہی فرمانوں اور قابل اطلاق ضوابط کی کسی بھی ایسی شق کو متاثر نہیں کرنا چاہیے جو غیر ملکی سے شادی نہ کرنے کی شرط رکھتی ہو۔ حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ عمانیوں کی غیر ملکیوں سے شادی کو ثابت کرنے والے کاغذات متعلقہ قوانین اور شاہی فرمانوں کی دفعات کے مطابق تیار کیے جائیں گے۔

حکم نامہ معاشرے کے تحرک کی رفتار سے ہم آہنگ

عمانی مصنف محمد البطاشی نے کہا ے کہ یہ حکم نامہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ عمان کے سلطان انسانی حقوق اور سماجی مسئلے کو ترجیح دیتے ہیں۔ قانونی ہتھیاروں کو اپ ڈیٹ کرنے اور وقت کی روح اور حرکیات کے مطابق قانون سازی کرنے کے خواہش مند ہیں۔ اس طرح یہ حکم نامہ معاشرے کے تحرک کی رفتار سے ہم آہنگ ہے۔

البطاشی نے غیر ملکیوں سے شادی کے متعلق سابق حکم نامے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پرانے حکم نامے میں درج تھا کہ جو شہری کسی غیر ملکی سے شادی کرنا چاہتا ہے اس کی عمر کم از کم 45 سال ہونی چاہیے۔ اسے پہلے گورنر کے قریبی دفتر کے ذریعے درخواست جمع کرانی ہوگی۔ اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے وزارت داخلہ کو درخواست دینا ہوگی۔ پچھلے حکم نامے کی شرائط میں سے ایک یہ بھی تھی کہ غیر عمانی عورت سے شادی کے لیے درخواست گزار مالی طور پر شادی کے اخراجات برداشت کرنے، مناسب رہائش فراہم کرنے اور خاندان کی کفالت کرنے کے قابل ہو اور اس نے عمانی عورت سے شادی نہ کر رکھی ہو۔

محمد البطاشی نے مزید کہا کہ غیر ملکی خاتون سے شادی کی درخواست دینے کی صورت میں بیرون ملک سے شادی کے لیے جمع کرائی گئی درخواستوں کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں وزارت داخلہ کے دو اراکین شامل تھے۔ جن میں سے ایک کمیٹی کا سربراہ تھا۔

محمد البطاشی نے سابق حکم نامے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ ضوابط کی خلاف ورزی پر دو ہزار عمانی ریال تک کا مالی جرمانہ اور سرکاری ملازمت سے محرومی کی سزا بھی رکھی گئی تھی۔

اس تناظر میں عمانی وکیل صلاح المقبالی نے بتایا ہے کہ نئے حکم نامے میں غیر ملکیوں سے شادی کے لیے ایک شرط باقی رہ گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ شادی اسلامی قوانین اور امن عامہ کے منافی نہ ہو۔ یہ سلطنت عمان میں غیر ملکیوں سے شادی کے لیے دو بنیادی شرطیں ہیں۔

عمانی وکیل فیصل السعیدی نے یہ بھی بتایا کہ عمانیوں کی غیر ملکیوں کے ساتھ بغیر اجازت کی شادی میں عورتیں اور مرد دونوں شامل ہیں۔

حکم نامہ غیر ملکی سماجی تانے بانے کو بگاڑ سکتا

سلطنت عمان میں غیر ملکیوں سے شادی کی غیر مشروط اجازت دیئے جانے پر تنقید بھی کی جارہی ہے۔ اس حوالے سے عمانی مصنف سیف العلوی نے کہا ہے کہ نئے فرمان کے بلاشبہ سماجی اثرات ہیں کیونکہ شادی معاشرے کی بنیاد ہے، اس فرمان سے مستقبل میں سماجی تانے بانے میں تبدیلی آئے گی۔ خاص طور پر معاشی، صحت اور سماجی اثرات غیر ملکی خواتین سے شادی کی شرح میں اضافے کا باعث بنیں گے۔ پھر یہ لہر ایک سماجی ثقافت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ یہ ثقافت لامحالہ ملک میں شادی کے بغیر رہ جانے والی خواتین کی شرح کو متاثر کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ پابندیاں باقی رہنی چاہئیں اور میدان کو سب کے لیے کھلا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ مذہب، رسم و رواج اور روایات کے لحاظ سے فرد اور معاشرے پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اس لیے دروازے کو کھلا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ شادی کو مختلف منفی اور مثبت پہلوؤں میں منظم کرنے کے لیے کنٹرول ہونا چاہیے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ عمانی مردوں کی غیر عمانی خواتین سے شادی اور عمانی خواتین کی غیر عمانی مردوں سے شادی کا معاملہ عموماً بڑے تنازعات کو جنم دیتا ہے۔ اس شادی کے جواز میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ 2020 کی آبادی کی مردم شماری کے مطابق سلطنت عمان میں مردوں کی تعداد خواتین کی تعداد سے 22,000 سے زیادہ ہے۔ اس کی مخالفت کرنے والے کہتے ہیں کہ بیرون ملک شادیاں کرنے سے ملک کے اندر زیادہ جہیز اور شادیوں کے اخراجات میں اضافے جیسے مسائل بھی پیدا ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں