اسرائیل میں زیر حراست اردنی رکن پارلیمنٹ کے اہل خانہ نے اپنی خاموشی توڑ دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل میں اپنی گاڑی سےاسلحہ کی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار اردنی پارلیمنٹ کے رکن عماد العدوان کے حوالے سے اردنی عوامی حلقوں میں بحث جاری ہے اور ان کی رہائی کے لیے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف عدوان کے اہل خانہ نے عماد عدوان کی رہائی کے لیے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

اتوار کی شام گرفتاررکن پارلیمنٹ عماد زیدان العدوان نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ انہوں نے اپنے بھائی کو اسرائیل سے لانے کے لیے تمام ذمہ داری شاہ عبداللہ دوم، اردنی حکومت اور پارلیمنٹ کو سونپ دی ہے۔

انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ کھڑے ہونے پر "تمام اردنی باشندوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔"

اردنی رکن پارلیمان عماد العدوان
اردنی رکن پارلیمان عماد العدوان

انہوں نے وضاحت کی کہ پاور آف اٹارنی حکومت کو اس خوف سے سونپا ہے کہ کسی بھی نفرت کرنے والے کا ہاتھ نہ بڑھے یا لوگ اس کے لیے ذاتی مقصد حاصل کرنے آئیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ریاستی ادارے حرکت میں ہیں اور عماد کو لانے کے لیے کوشاں ہیں، انہوں نے سکیورٹی سروسز پر مکمل اعتماد کا اظہارکیا۔

دوسری طرف اردن یونیورسٹی میں قانون کی فیکلٹی میں آئینی قانون کے پروفیسر اور قانونی ماہر ڈاکٹر لیث نصراوین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ہتھیاروں اور سونے کی اسمگلنگ کے پس منظر میں اسرائیل میں گرفتار ہونے والے رکن کوپارلیمانی استثنیٰ سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل ان کے پارلیمانی یا سفارتی استثنیٰ کا دفاع نہیں کر سکے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں