متحدہ عرب امارات میں عوامی خدمت کے اداروں کے لیے کارپوریٹ ٹیکس سے استثنا کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات میں عوامی خدمت کے اداروں کے لیے کارپوریٹ ٹیکس میں چھوٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق، یہ فیصلہ متحدہ عرب امارات میں ان اداروں کے اہم کردار کی بہترین عکاسی کے لیے کیا گیا ہے۔ ان میں اکثر مذہبی، خیراتی، سائنسی، تعلیمی، یا ثقافتی اور دیگر میدانوں میں مصروف عمل ادارے شامل ہیں۔

پریس ریلیز کے مطابق یہ ادارے عوام اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے ، انسان دوستی کو فروغ دینے، کمیونٹی سروسز یا کارپوریٹ اور سماجی ذمہ داری پر توجہ مرکوز کرتے ہیں اور متحدہ عرب امارات کے معاشرتی تانے بانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

کارپوریٹ ٹیکس سے مستثنیٰ ہونے کے لیے، ان اداروں کو کارپوریٹ ٹیکس قانون کے آرٹیکل (9) کے تحت شرائط کو پورا کرنا ہوگا۔

انہیں تمام متعلقہ وفاقی اور مقامی قوانین کی تعمیل جاری رکھنی ہوگی اور ان اداروں میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی کے بارے میں وزارت خزانہ کو مطلع کرنا ہوگا جس سے عوامی فائدے کی اہلیت کے طور پر ان کی حیثیت متاثر ہوتی ہے۔

اداروں کو فیڈرل ٹیکس اتھارٹی میں رجسٹر ہونا اور کارپوریٹ ٹیکس کے مقاصد کے لیے ٹیکس رجسٹریشن نمبر حاصل کرنا ضروری ہے۔

کابینہ وزیر کی تجویز پر اہل اداروں کے شیڈول میں ترمیم، اضافہ، یا انہیں اس لسٹ سے ہٹانے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ادارے میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی کی اطلاع دینا لازمی ہے جو اس فیصلے اور کارپوریٹ ٹیکس قانون میں بیان کردہ شرائط کو پورا کرنے کے تسلسل کو متاثر کرتی ہے۔

کابینہ کا یہ فیصلہ ٹیکس دہندگان کے لیے کارپوریٹ ٹیکس قانون کے آرٹیکل 33 کے تحت کٹوتی کے قابل اخراجات کے سلسلے میں مزید یقین اور شفافیت فراہم کرتا ہے، اس کے تحت ان عطیات اور تحائف کے لیے کارپوریٹ ٹیکس میں کمی کی اجازت دی جائے گی جو خاص شرائط پر پورا اترتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں