پنکھے سے لٹکتی لاش کی ویڈیو، عراق میں لڑکی کی خودکشی پر تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق میں بمشکل 17 سال کی عمر میں ایک لڑکی کی خودکشی کی خبر نے سوشل میڈیا پر بڑا تنازع پیدا کردیا ہے۔ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لڑکی کی لاش پنکھے سے جھول رہی ہے۔

عراقی لڑکی "رانیہ" نے بغداد کے ایک علاقےمیں اپنے والد کے گھر میں پنکھے سے خود کو پھانسی لگا کر خودکشی کی۔ یہ بات ٹویٹر پر "عراقی خواتین کے حقوق" کے پیج پر بتائی گئی۔ پیج نےبدھ کی شام ایک بیان میں کہا کہ اسے اس واقعے کی ویڈیو کلپ لڑکی کے خاندان کی جانب سے موصول ہوئی ہے۔ یہ لڑکی اپنے والد کے ساتھ اپنے دوسرے بھائیوں کے بغیر رہ رہی تھی۔ اس کے بھائی بیماری کی وجہ سے دوسرے ملک میں زیر علاج ہے۔

پیج پر کہا گیا کہ خاندان نے دعویٰ کیا ہے کہ لڑکی نے وجوہات بتائے بغیر خودکشی کی ہے۔تاہم ویڈیو کلپ پرغور کریں تو خودکشی کی بات اور جذباتی گفتگو درست معلوم نہیں ہورہی۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے خاندان پر الزام لگایا ہے کہ گھر کے دروازے سے جڑے ٹکڑے کے ذریعے سچائی کو جھوٹا بتایا گیا کہ اسے بجلی کا جھٹکا لگا جس سے اس کی زندگی ختم ہو گئی۔ ایک ذریعہ، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، نے کہا کہ متاثرہ لڑکی کی زندگی کے اردگرد بہت سے حالات ہیں۔ اسے بار بار اپنی والدہ سے ملنے یا اس سے رابطہ کرنے اور اپنی تعلیم مکمل کرنے سے روکا گیا تھا۔

لڑکی نے اپنی والدہ کے ساتھ رہنے کے لیے بہت پوچھا لیکن اس کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا ۔ لڑکی کے اپنے دوسرے ماموں کے گھر جانے کی وجہ سے اس سے قبل اسے اس کے چچا نے دھمکیاں دی تھیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اس کی موت کے حوالے سے فارنزک میڈیسن رپورٹ ابھی تک ساکھ اور عزت کے تحفظ کے بہانے جاری نہیں کی گئی ہے۔

"عراقی خواتین کے حقوق" تنظیم نے عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کیس کی تحقیقات کرے۔ فرانزک رپورٹ کو سامنے لا کر حقیقت کو واضح کیا جائے۔

واضح رہے اس واقعہ کے حوالے سے اہل خانہ اور سرکاری حکام نے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ وائرل ہونےوالی ویڈیو کی صداقت کی تصدیق نہیں کرسکا۔

خیال رہے عراق میں سال 2021 میں خودکشی کے 772 واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے۔ یہ سال 2020 کے مقابلے میں 100 کی تعداد میں زیادہ تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں