ہسپتالوں میں آکسیجن کا ذخیرہ ختم ہونے والا ہے: سوڈانی خاتون ڈاکٹر کا پریشان کن پیغام

گیارہ روز سے طبی عملہ سو نہیں سکا، ڈاکٹربھی بیمار ہونے لگے ہیں: ڈاکٹرھویدا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈانی فوج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان 15 اپریل سے جاری لڑائی کےنتیجے میں محکمہ صحت اور ہسپتالوں میں طبی خدمات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

خُرطرم میں قائم نیو البان ہسپتال کی ایک خاتون ڈاکٹر نے خبر دار کیا ہے کہ ان کے ہسپتال میں آکسیجن کا ذخیرہ تقریبا ختم ہوچکا ہے اور باقی ماندہ آکسیجن ذخیرہ جلد ختم ہوجائے گا۔

سی این این کے مطابق ڈاکٹر ھویدا الحسن نے انکشاف کیا کہ زخمی مسلسل آ رہے ہیں اور ملازمین خود 11 دنوں سےدن رات کام کر رہے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ ’’وہ جنگ بندی کی بات کر رہے ہیں، لیکن کوئی جنگ بندی نہیں ہوئی"۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ طبی عملے کے پاس آرام کرنے کا وقت نہیں ہے ہم لوگ سو نہیں سکتے اور عملے کو چکر آ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "جلد ہی ہمارے پاس بے ہوشی کی دوا یا آکسیجن نہیں ہوگی۔ صورتحال ہرلمحہ خراب سے خراط تر ہور رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سوڈانی فوج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان پندرہ اپریل سے شروع ہونے والے مسلح تصادم کے تیرہویں روز جمعرات کو جنگ بندی کے باوجود دوبارہ بمباری کی گئی اور خرطوم کے جنوبی محلوں میں پرتشدد جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ فوج نے جنرل کمانڈ اور صدارتی محل کے قرب و جوار میں باغی فوج پر نئے حملے کیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ محمد حمدان دقلو کی قیادت میں سریع الحرکت فورسزسے تعلق رکھنے والے طیارہ شکن فائر کی آواز اس جگہ سنی گئی۔

نامہ نگار نے واضح کیا کہ فوج کے طیاروں نے خرطوم شمالی کے مشرق ام درمان میں سریع الحرکت فورسز کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں