اردن کے ڈاکٹر نے اپنا بون میرو امریکہ میں نامعلوم شخص کو عطیہ کردیا

میری کہانی دوسروں کو ضرورت مندوں کی زندگیاں بچانے کی ترغیب دے گی: علی سمارہ الزعبی کا ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ میں مقیم اردنی ڈاکٹر علی سمارہ الزعبی نے ایک ایسے شخص کی جان بچانے کے لیے اپنا بون میرو عطیہ کر کے قربانی کی خوبصورت کہانی لکھ دی جسے وہ جانتے تک نہیں ہیں۔

علی سمارہ الزعبی نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ میں نے تین سال قبل بغیر پیشگی منصوبہ بندی کے بون میرو ڈونر بننے کا فیصلہ کیا تھا جب میں نے اپنے ایک دوست کو ایکیوٹ مائیلوڈ لیوکیمیا سے بچتے ہوئے دیکھا۔ ایک بون میرو ٹرانسپلانٹ نے اسے ایک نئی زندگی دی تھی۔ اسے کسی نے بون میرو ٹرانسپلانٹ عطیہ کرکے زندگیاں کی خوشیاں عطا کردی تھیں۔

میچ کے نتائج

علی سمارہ الزعبی نے بتایا کہ انہیں امریکہ میں عطیہ کے لیے اس جگہ سے ایک فون کال موصول ہوئی تھی جس میں انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ یہ ایک بیمار بچہ ہے جسے بون میرو ٹرانسپلانٹ کی سخت ضرورت تھی۔ میں نے درخواست کا فوری جواب دیا اور اسے قبول کر لیا۔ عطیہ دینے سے قبل فلوریڈا میں خلیج ٹمبا میں طبی معائنہ کیا گیا اور لیبارٹری ٹیسٹ کرائے گئے تو نتائج بالکل مماثل تھے۔

ڈاکٹر نے وضاحت کی کہ آپریشن مکمل اینستھیزیا کے تحت کیا گیا ہے۔ میں نے اپنے گھر والوں کو فون کر کے اپنی صحت اور آپریشن کی کامیابی کا یقین دلایا ہے۔

علی سمارہ الزعبی نے اپنے اقدام پر خوشی اور فخر کا اظہار بھی کیا اور کہا میں یہ بھی دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا بچہ بہتر ہوگا۔

اردنی ڈاکٹر نے یہ بھی کہا کہ وہ دوسروں کو عطیہ کرنے اور ضرورت مندوں کی زندگیاں بچانے کی ترغیب دینے کے لیے اپنی کہانی شائع کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ مجھے امید ہے کہ یہ پیغام لوگوں تک بون میرو عطیہ کے پروگرام کے بارے میں آگاہی فراہم کرے گا۔ یہ بہت سے عطیہ دہندگان کو اکٹھا کرے گا اور اس طرح ضرورت مندوں کے لیے مزید ممکنہ میچ فراہم ہو جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں