عرب وزرائے خارجہ کا شام کی صورت حال پراردن میں سوموار کو اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عرب وزرائے خارجہ سوموار کو اردن میں اجلاس منعقد کریں گے جہاں وہ شام کے طویل عرصے سے جاری تنازع اور خطے میں دمشق کی سفارتی تنہائی کے خاتمے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

شامی صدربشارالاسد کو2011 میں اپنے ملک میں شروع ہونے والے تنازع کے بعد سے سیاسی اور سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔تاہم حالیہ ہفتوں میں شامی صدر سے عرب ممالک نے ازسرنو سلسلہ جنبانی شروع کیا ہے اور سعودی عرب اور ایران کی جانب سے مارچ میں سفارتی تعلقات بحال کرنے کے بعد سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

اردنی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ عمان میں ہونے والے اجلاس میں مصر، عراق، اردن، سعودی عرب اور شام کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے۔اس میں شامی بحران کے سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے شامی حکومت کے ساتھ ان ممالک کے رابطوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس خلیج تعاون کونسل کے ممالک، اردن، عراق اور مصر کے مشاورتی اجلاس کا تسلسل ہے جس کی میزبانی سعودی عرب نے اپریل کے وسط میں کی تھی۔اس اجلاس میں نو عرب ممالک نے جدہ میں ملاقات کی۔اس میں شام کی طویل عرصے سے جاری سفارتی تنہائی کے خاتمے اور 2011 میں دمشق کی معطلی کے بعد 22 رکنی عرب لیگ میں اس کی ممکنہ واپسی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ سفارت کاروں نے شام میں بحران کے خاتمے کی کوششوں میں عرب قیادت کے کردار کی اہمیت پر زور دیا۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے 2018 کے آخر میں دمشق کے ساتھ تعلقات دوبارہ قائم کرلیے تھے۔اسی ماہ شام اور تُونس نے بھی اعلان کیا کہ وہ اپنے اپنے دارالحکومتوں میں سفارتی مشن دوبارہ کھولیں گے۔

تاہم، دمشق کے دوبارہ عرب لیگ میں انضمام کے علاقائی مخالفین بدستور موجود ہیں۔ان میں ایک قطر ہے۔ اس نے شام کی خانہ جنگی میں حزب اختلاف کے گروپوں کی حمایت کی ہے اوراس نے شام کی عرب لیگ میں واپسی کے خیال کو محض ’’قیاس آرائی‘‘ قرار دیا ہے۔

شام میں 12 سال سے جاری جنگ میں اب تک قریباً پانچ لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور اس کی قریباً نصف آبادی اب پناہ گزین کے طورپربیرون ملک رہ رہی ہے یا اندرون ملک بے گھر ہو چکی ہے۔شام کا بڑا حصہ اب بھی حکومتی کنٹرول سے باہر ہے۔

صدر بشارالاسد کو امید ہے کہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کو مکمل طور پر معمول پر لانے سے ملک کے جنگ سے تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو میں مدد ملے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں