مصر میں فحش ویڈیو چینل چلانے والی یوٹیوبر کو تین سال قید اور ایک لاکھ پاؤنڈ جرمانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کی ایک اکنامک کورٹ نے "انوش ڈائریز" کے نام سے یو ٹیوب پر فحش مواد پر مشتمل چینل چلانے والی خاتون کو تین سال قید اور ایک لاکھ پاؤنڈ جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے خاتون، جسے "انوش" کہا جاتا ہے کو ناشائستہ تصاویر اور ویڈیوز نشر کرنے کے الزام میں سزا کے برابر مدت کے لیے پولیس کی نگرانی میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ خاتون قید کی سزا پوری کرنے کے بعد مسلسل تین سال تک پولیس کی نگرانی میں رہے گی۔

حکام نے خاتون کو اپنے یو ٹیوب چینل پر فحش ویڈیوز نشر کرنے کے پاداش میں چند ماہ قبل گرفتار کیا تھا۔

خاتون کے فحش مواد پر مشتمل ویڈیو چینل چلانے کے خلاف درخواست ایڈووکیٹ اشرف فرحات نے دائر کی تھی۔ اس کی شکایت پر پولیس نے ملزمہ کو گرفتار کیا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق پبلک پراسیکیوشن آفس کی جانب سے ملزمہ ’’نبویہ‘‘ سے کی گئی تحقیقات میں انکشاف کیا گیا۔ اس نے ناظرین کی تعداد بڑھانے اور زیادہ پیسہ کمانے کے لیے جان بوجھ کر معاشرے کے معیارات، اخلاقیات اور اخلاقی اقدار کی خلاف ورزی کرنے والی ویڈیوز میں اپنے جسم کے حصوں کو برہنہ دکھایا ۔ ’’نبویہ‘‘ نے عوامی اخلاقیات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نیم برہنہ لباس پہن کر بے حیائی پھیلائی۔

تفتیشی حکام نے ملزم کی بینکوں میں رکھی رقم ضبط کرنے کا حکم جاری کیا اور اس کے زیورات بھی قبضے میں لے لیے ہیں۔ دوسری جانب ’’نبویہ‘‘ نے چینل کے مواد کے پیچھے اپنے مقاصد اور اس طرح کی ویڈیوز پیش کرنے کی وجہ کے بارے میں اعتراف بھی کر لیا ہے۔

’’ انوش ڈائری‘‘ کی مالکہ نے وضاحت کی کہ انہیں ایک نجی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور کیا گیا تاکہ وہ یو ٹیوب پر چینلز کو سپانسر کر سکیں اور "ڈیلی روٹین" کے عنوان سے مواد فراہم کریں۔ ان ویڈیوز میں باورچی خانے کے اندر اور گھر کی صفائی کے دوران خواتین کی روزمرہ کی زندگی کے مناظر شامل ہیں۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ میں نے اپنی ویڈیوز پر زیادہ آراء یا کمنٹس حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ زیادہ مالی منافع حاصل کر سکوں اور اس سے اپنے گھر کے اخراجات کا انتظام کرنے اور اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرنے میں مدد مل جائے گی۔

’’نبویہ‘‘ نے بتایا کہ وہ طلاق یافتہ ہے اور اس کے پاس کمائی کا کوئی اور وسیلہ نہیں ہے۔ خاتون کا کہنا تھا کہ جو ویڈیوز وہ شروع میں شائع کر رہی تھیں وہ مالی منافع کمانے کے لیے درکار ویوز حاصل کرنے کے قابل نہیں تھیں۔

اب بے حیائی والا لباس پہن کر بنائی گئی ویڈیوز کے باعث ویوز کی تعداد بڑھ گئیں۔ اس طرح ملنے والا منافع میں کمپنی کے ساتھ شیئر کر رہی ہوں۔

خیال رہے کہ وکیل اشرف فرحت نے چینل کے مالک کے خلاف شکایت درج کرائی تھی اور ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ایسا "معاشرے کی صفائی مہم" کے بانی کے طور پر کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں