سیاسی احتجاج میں وردی پہننے پر اسرائیلی فوجی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی فوج کے ایک افسر کو اتوار کے روز سیاسی مظاہرے میں وردی پہن کر شرکت کرنے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ حکومت کی منصوبہ بند عدلیہ اصلاحات پر مبنی ترمیم کے معاملے پر کسی فوجی کو عہدہ سے ہٹانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ اس واقعہ نے فوجی صفوں میں نفرت کو ہوا دی ہے۔

مقامی میڈیا نے اس افسر کی شناخت ایک میجر کے طور پر کی ہے جسے ٹیلی ویژن پر حکومت کی حامی ریلی کے دوران پبلسٹی سٹنٹ کرتے ہوئے سٹریچر لے جاتے دکھایا گیا تھا۔ یہ مظاہرہ عدلیہ اصلاحات کے خلاف مہینوں کے مظاہروں کو ختم کرنے کی کوشش میں جمعرات کو بلایا گیا تھا۔

فوج نے اس کے عہدے کی توثیق کی ہے تاہم اس کے جرم پر ایک بیان میں صرف اتنا کہا کہ اس نے گزشتہ ہفتے یونیفارم میں ہوتے ہوئے ایک احتجاج میں حصہ لیا تھا اور اسے اس کی کمانڈ اتھارٹی سے محروم کردیا گیا ہے۔

اسرائیل کی سپریم کورٹ کے اختیارات میں کمی کرتے ہوئے وزیر اعظم نیتن یاھو کے حکومتی اتحاد کے دباؤ نے عدالتی آزادی پر تشویش کا جنم دیا ہے۔ نیتن یاھو اور ان کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون سازی کا مقصد حکومت کی شاخوں میں توازن پیدا کرنا ہے۔

اس جھگڑے کی گونج اسرائیل کی مسلح افواج میں بھی پہنچ گئی ہے۔ کچھ فوجیوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر عدلیہ اصلاحات ہوتی ہیں تو وہ حکم ماننے سے انکار کردیں گے۔ بعد میں احتجاجی مظاہروں کے دباؤ میں آکر نیتن یاھو نے عدلیہ اصلاحات کا کام روکنے کا اعلان کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں