مہنگائی کی وجہ سے ایرانی وزیر صنعت کے خلاف تحریک عدم اعتماد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی شوریٰ کونسل نے اتوار کے روز صدر ابراہیم رئیسی کی حکومت میں وزیر صنعت وکان کنی اور تجارت رضا فاطمی امین پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی وزیر سے اعتماد کا ووٹ ایک ایسے وقت میں واپس لیا گیا ہے جب کہ ملک کی معیشت پابندیوں کے دباؤ کا شکار ہے۔

فاطمی امین اعتماد کے ووٹ کے دوران خاطر خواہ حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ شوریٰ کونسل کے 162 ارکان نے اعتماد واپس لینے کے حق میں ووٹ دیا جب کہ 102 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ اجلاس میں شرکت کرنے والے 272 ارکان میں صدر رئیسی بھی شامل تھے اور انہوں نے اپنے وزیر کے دفاع کے لیے شرکت کی۔

یہ دوسرا موقع ہے کہ فاطمی امین کو انہی مسائل پر پارلیمنٹ کے سامنے ووٹنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے نومبر میں 182 ووٹوں کی اکثریت حاصل کی، جس کی وجہ سے وہ اپنے عہدے پر برقرار رہ سکیں۔

پابندیوں کی وجہ سے غیر ملکی درآمدات میں تیزی سے کمی کے بعد دیسی ساختہ کاروں کی قیمتوں میں اضافہ عدم اعتماد کے اجلاس کے انعقاد کے اہم عوامل میں سے ایک ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے گذشتہ سال کے آخر میں کاروں سمیت مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات کی زیادہ قیمتوں اور کم معیار پر تنقید کی۔

سنہ 2018ء سے ایرانی معیشت کو ان سخت پابندیوں کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو تہران کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری کے بعد امریکا کی طرف سے دوبارہ عائد کی گئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں