2023ءمیں فلسطین کی اقتصادی ترقی سست روی کا شکار رہے گی:عالمی بینک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عالمی بینک نے منگل کے روزکہاہے کہ 2022ء میں کووِڈ کے بعد فلسطینی معیشت کی شرح نمو چار فی صد رہی تھی اور2023ء میں فلسطینی معیشت میں قریباً تین فی صد اضافے کی توقع ہے،کیونکہ اسرائیل کے ساتھ کشیدگی اوریوکرین میں جنگ کے سنگین منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔

عالمی بینک نے کہا ہے کہ وہ اس ہفتے برسلزمیں فلسطینیوں کے لیے ترقیاتی امداد کے حوالے سے پالیسی اجلاس میں اپنا نقطہ نظر پیش کرے گا۔فلسطینی معیشت غیرملکی امداد پر منحصر ہے اور اسرائیل کے تعزیری اقدامات کے نتیجے میں بری طرح متاثرہوتی ہے،جس نے سکیورٹی خدشات کاحوالہ دیتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے میں سفری پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔

حماس کے زیراقتدارغریب زدہ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے علاقے میں زیادہ مضبوط معیشت کے درمیان بھی دراڑ ہے۔غرب اردن میں مغرب کی حمایت یافتہ فلسطینی اتھارٹی کی محدود خودمختاری کے ساتھ حکومت ہے۔

عالمی بینک نے کہا ہے کہ اگران حرکیات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی اورغیرملکی امداد مستحکم رہتی ہے تو اسے 2023 اوراس کے بعد آنے والے برسوں میں قریباً تین فی صد ترقی کی توقع ہے۔

مغربی کنارے اورغزہ کے لیے عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹراسٹیفن ایمبلاڈ نے کہا:’’معیارِزندگی کو بڑھانے، مالی کھاتوں کی پائیداری کو بہتربنانےاور بامعنی طریقے سے بے روزگاری کو کم کرنے کے لیے نمایاں طور پر بلند شرح نمو کی ضرورت ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق مقامی ٹیکس وصولیوں اور کلیئرنس ریونیو میں اضافے کی وجہ سے گرانٹ سے قبل مجموعی مالی خسارے میں 60 فی صد کمی واقع ہوئی۔ عطیہ دہندگان کے عطیات اور کلیئرنس محصولات سے اسرائیلی کٹوتی کو مدنظررکھتے ہوئے فلسطینی مالیات کا فرق 2022 میں جی ڈی پی کا 1.8 فی صد تھا اور یہ2021 میں 5.7 فی صد تھا۔

ایمبلاڈ نے فلسطینی اتھارٹی پربھی زوردیا کہ وہ محصولات میں اضافے، قرضوں کے انتظام کو مضبوط بنانے اور مالی استحکام کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کو آگے بڑھائے۔

رپورٹ میں تن خواہوں کے بل کے لیے بڑھتے ہوئے اخراجات میں تبدیلی، 'فراخدلانہ' پبلک پنشن سسٹم اور آبادی کے کمزورطبقات کے لیے زیادہ رقم مختص کرنے کی ضرورت کی سفارش کی گئی ہے۔

دریں اثناء فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ نے منگل کے روز اپنی کابینہ کو بتایا کہ وہ اصلاحات کو آگے بڑھائیں گے، لیکن انھوں نے اس کی تفصیل پیش نہیں کی۔

انھوں نے کہاکہ اسرائیل کی ٹیکس آمدنی روکنے کی پالیسی اورغیرملکی عطیات میں کمی نے بجٹ خسارے میں اضافہ کیا ہے۔

اسرائیل فلسطینی اتھارٹی جانب سے گذرگاہوں پر ٹیکس کی کچھ رقم جمع کرتا ہے اوروہ اس میں سے کچھ رقم کو فلسطینی عسکریت پسندوں کے حملوں کے اسرائیلی متاثرین کومعاوضہ دینے کے لیے روک لیتا ہے۔اس کے علاوہ وہ پی اے کی جانب سے حملہ آورفلسطینیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو ادا کیے جانے والے وظائف کی رقم بھی منہا کرلیتاہے۔

گذشتہ ہفتے فلسطینی ادارہ برائے شماریات کی ایک رپورٹ میں بتایاگیاتھا کہ 2022 میں مغربی کنارے میں بے روزگاری کی شرح 16 فی صد سے کم ہو کر 13 فی صد رہ گئی اور غزہ کی پٹی میں یہ 47 فی صد سے کم ہو کر 45 فی صد رہ گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں