شام اور اسد

ابراہیم رئیسی کا دورۂ دمشق؛شام اورایران کے درمیان تیل اور تجارت کےمعاہدوں پردست خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران اورشام کے صدور نے بدھ کے روز تیل اور دیگر شعبوں میں طویل مدتی دوطرفہ تعاون کے فروغ کے معاہدوں پردست خط کیے ہیں تاکہ دونوں اتحادیوں کے درمیان اقتصادی تعلقات کومضبوط بنایاجاسکے۔

ایرانی صدرابراہیم رئیسی نے دمشق میں اپنے شامی ہم منصب بشارالاسد سے ملاقات کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پرتبادلہ خیال کیا ہے۔2010ء کے بعد کسی ایرانی صد کا دمشق کا یہ پہلا دورہ ہے۔ابراہیم رئیسی کی قیادت میں ایک بڑااقتصادی اور سیاسی وفد بھی شام گیا ہے۔

شام کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی صدراور بشارالاسد نے تیل، زراعت، ریلوے اورآزاد تجارتی علاقوں سمیت متعدد شعبوں سے متعلق معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پردست خط کیے ہیں۔

ایران کی سرکاری ریل کمپنی طویل عرصے سے ہمسایہ ممالک عراق اور شام کے ذریعے اپنے نیٹ ورک کو وسعت دینے کی خواہاں ہے تاکہ وہ بحر متوسط (بحیرہ روم) میں شام کی بندرگاہ اللذاقیہ سے اس ریل نیٹ ورک کومنسلک کرسکے اور تجارت کے فروغ کا ذریعہ بن سکے۔ شام کی حزب اختلاف اور تہران کے ناقدین اسے ایران کی جانب سے اپنے سیاسی اثرورسوخ کو بڑھانے کی ایک اورکوشش کے طورپردیکھتے ہیں۔

ایران سے نئے معاہدے شام کے لیے اہمیت کے حامل ہیں، جس کی معیشت گذشتہ ایک دہائی کے دوران میں اب تک کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔اس کے ہاں خانہ جنگی کے دوران میں افراط زر میں اضافہ ہواہے، کرنسی کی قدر مسلسل کم ہوئی ہے اوربجلی کی پیداوارکم ہونے اورمانگ بڑھنے کی وجہ سے اب برقی رووقفے وقفے سے معطل کی جارہی ہے۔

دمشق میں آمد سے قبل عرب ٹی وی چینل المیادین کو ایک انٹرویو میں ابراہیم رئیسی نے شام میں تعمیرنو کی کوششوں اورجنگ کے نتیجے میں دربدرہونے والے شامی پناہ گزینوں کی وطن واپسی پرزوردیا۔

بشارالاسد اور ابراہیم رئیسی ۔
بشارالاسد اور ابراہیم رئیسی ۔

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق بشارالاسد سے ملاقات میں ایرانی صدرنے کہا کہ شام کی حکومت اور عوام کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔آج ہم یہ کَہ سکتے ہیں کہ آپ نے ان تمام مسائل پرقابوپالیا ہے اور دھمکیوں اورپابندیوں کے باوجود فتح حاصل کی ہے۔

ابراہیم رئیسی شام کا یہ دورہ ایسے وقت میں کررہے ہیں جب مصر اور سعودی عرب سمیت بعض عرب ممالک بشارالاسد کے لیے کھل کر بات کر رہے ہیں اوران کے وزرائے خارجہ حالیہ ہفتوں میں دمشق کا دورہ کر چکے ہیں۔

شامی وزیرخارجہ فیصل المقداد نے اپریل میں سعودی دارالحکومت الریاض کا دورہ کیا تھا۔یہ 2012 میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات منقطع ہون کے بعد اس طرح کا پہلا دورہ تھا۔

واضح رہے کہ مارچ میں ایران اور سعودی عرب نے چین کی ثالثی میں سات سال کی کشیدگی کے بعد سفارتی تعلقات بحال کرنے اور سفارت خانوں کو دوبارہ کھولنے کا معاہدہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں