غزہ کی جماعتوں اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کا معاہدہ طے پا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں مختلف جماعتوں کے ساتھ سیز فائر پر اتفاق کیا ہے۔ لام بندی پر اتفاق رائے سے پہلے اسرائیل نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب غزہ میں سرگرم مختلف فلسطینی جماعتوں کے ٹھکانوں پر بمباری کا نیا سلسلہ شروع کیا تھا جس کے بعد غزہ کی پٹی زوردار دھماکوں سے لرز اٹھی۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج نے ایک اعلان میں بتایا تھا کہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے غزہ پر بمباری کی، عینی شاھدین نے بتایا کہ انہوں نے اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو نچلی پروازیں کرتے دیکھا جس کے بعد پورا علاقہ زوردار دھماکوں سے لرز اٹھا۔

فلسطینی ذرائع ابلاغ نے بھی غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں زوردار دھماکوں سے متعلق اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دھماکے اسرائیلی بمباری کے بعد سنے گئے۔

ادھر العربیہ/الحدث کے نمائندگان نے بتایا اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر بغیر پائیلٹ ڈرونز سے حملے کئے۔ نامہ نگاروں کے مطابق غزہ کے غلاف میں واقع یہودی آبادیوں پر غزہ کی پٹی سے میزائلوں کی بارش کی گئی۔

’’شھاب‘‘ نامی خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ اسرائیل کے لڑاکا طیاروں نے غزہ کے شمال مغربی علاقے السفینہ کے گرد فضائی حملے کئے۔ ایجنسی کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے السفینہ کے علاقے میں ایک ہدف پر تیسری مرتبہ بمباری کی جبکہ مغربی غزہ کے علاقے البیدر اور جنوبی غزہ میں ایک ہدف پر بھی اسرائیلی طیاروں نے بمباری کی۔

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری میں تاحال کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

منگل کے روز غزہ سے اسرائیل پر 20 میزائل داغے گئے۔ یہ کارروائی جیل میں دوران حراست اسلامی جہاد کے ایک رہنما کے انتقال کے بعد اسرائیلی وارننگ کے جلو میں کی گئی۔ خضر عدنان اسرائیل جیل میں 87 دنوں سے بھوک ہڑتال پر تھے۔

میزائل حملوں کے فورا بعد غزہ کی پٹی کے بیرونی غلاف میں واقع اسرائیل کی کثیف آبادی والی یہودی بستیوں میں خطرے کے سائرن بجنے لگے۔

سرحدی ٹھکانوں پر گولا باری

دوسری جانب العربية/الحدث کے نامہ نگار کی اطلاع کے مطابق اسرائیلی فوج کے ٹینکوں نے غزہ کی سرحد پر فلسطینی تنظیموں کے مختلف مانیٹرنگ ٹھکانوں پر گولے برسائے گئے۔

اسرائیلی جیلوں میں ہزاروں فلسطینی قید ہیں، خضر عدنان کی شہادت کے بعد ان میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی۔ فلسطینی تنظیموں نے خضر عدنان کی شہادت کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا ہے۔ فلسطینی اسیران کے کلب اور تنظیم آزادی فلسطینی کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے جنرل سیکرٹری نے خضر عدنان کی بھوک ہڑتال کے دوران شہادت کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا ہے۔

تحریک اسلامی جہاد اور اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ نے الگ الگ بیانات میں خبردار کیا ہے کہ ’قابض [اسرائیل] کو خضر عدنان کی شہادت کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔‘‘

پہلا قیدی

اسرائیل جیل اتھارٹی کے مطابق خضر عدنان کو دس مرتبہ گرفتار کیا گیا، ہر گرفتاری کے بعد وہ مختلف مدت کی قید کاٹتے رہے۔ وہ ماضی میں چار مرتبہ اپنی غیر قانونی رہائی کے خلاف جیل میں بھوک ہڑتال کر چکے تھے، لیکن اسرائیل نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے سے انکار کیا۔

گذشتہ روز وہ دوران حراست بھوک ہڑتال کے دوران جام شہادت نوش کرنے والے پہلے فلسطینی بن گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں