السودہ کی پہاڑیوں میں خوفناک راتیں گذارنے والے سعودی فوٹوگرافروں کا انجام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حال ہی میں سعودی عرب کے فوٹو گرافر ہانی الزہرانی فوٹو گرافی کے مشن کے دوران السودہ کی پہاڑیوں پر پھسل فوت ہونے کے بعد سنگلاخ پہاڑایک بار بھی میڈیا کی توجہ کا مرکز ہیں۔

السودہ پہاڑوں میں ہانی الزہرانی کی وفات اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ چار سال قبل سعودی فوٹو گرافر عبدالعزیز مخافہ کے ساتھ بھی ایک ایسا ہی حادثہ پیش آیا تھا تاہم انہیں ہیلی کاپٹرکی مدد سے بچا لیا گیا۔ وہ ڈیڑھ دن اس پہاڑی علاقے میں گرنے کے بعد بے ہوش پڑے رہے۔

فوٹوگرافی کے دوران فوٹو گرافرعبدالعزیز مخافہ کو السودہ کے خوفناک علاقوں میں طویل گھنٹے گذارنا پڑے۔ وہ درختوں اورپہاڑوں کی تصویریں بناتے آگے بڑھتے رہے۔ اس دوران ان کا پاؤں پتھروں میں پھسل گیا اور وہ زمین پر گر گئے۔ جدہ شہر سے ایک ریسکیو ہیلی کاپٹر کی مدد سے انہیں سے نکالا گیا اور انہیں ایک بار پھر نئی زندگی ملی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ السودہ پہاڑ سطح سمندر سے 3015 میٹر کی بلندی پر واقع ہے اور اس کے پہاڑ گھنے جونیپر کے درختوں سے ڈھکے ہوئے ہیں جو قدرتی جنگلات ہیں۔ بلندی پرہونے کی وجہ سے گاؤں میں موسم گرما میں درجہ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ نہیں ہوتا جبکہ سردیوں کے موسم میں درجہ حرارت آس پاس کے علاقوں کے مقابلے بہت کم ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں