سعودی عرب میں کسٹم کلیئرنس کے پیشے کے عمل کو کنٹرول کرنے کے لیے نئے قوانین کا اطلاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی زکوٰۃ ٹیکس اور کسٹم اتھارٹی نے کسٹم کلیئرنس کے پیشے پر عمل کرنے کے لیے نئے وضع کردہ قواعد کی منظوری دی ہے۔ یہ قوانین 20 جمادی الثانی 1439ھ کو جاری کردہ کسٹم کلیئرنس کے پیشے پر عمل کرنے کے ضابطہ قانون کی جگہ نافذ کیے گئے ہیں۔

اتھارٹی نے بتایا کہ کسٹم کلیئرنس کے پیشے پر عمل کرنے کے قوانین میں کسٹم کلیئرنس کے شعبے سے متعلق کچھ خدمات میں متعدد ترامیم شامل کی ہیں۔ ان میں 3000 ریال پر کسٹم کلیئرنس لائسنس کے اجراء اور تجدید کی فیس کی منسوخی، ایکسپورٹ اور ایمپورٹ برانچ کی 1000 ریال فیس کی منسوخی اور ٹرانزٹ برانچ کے1000 ریال فیس منسوخی شامل ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی ‘ایس پی اے’ کے مطابق اتھارٹی نے بتایا کہ کسٹم کلیئرنس سروسز میں ترامیم میں بینک گارنٹی کی شرط کی منسوخی بھی شامل ہے۔ یہ شرط درآمدات اور برآمدات میں کسٹم کلیئرنس کی سرگرمی کو قائم کرنے کی ضروریات میں سے ایک تھی جس کی فیس 100,000 ریال سے لے کر 200,000 ریال تک تھی۔

قوانین میں کہا گیا ہے کہ بینک گارنٹی کی ضرورت صرف ٹرانزٹ سرگرمی کے قیام تک محدود ہو گی، جس کی قیمت کم از کم 50,000 ریال ہو، جس میں تمام کسٹم بندرگاہیں شامل ہوں۔

ان ترامیم میں کسٹم پورٹ کے قریب ترین شہر میں مرکزی ہیڈ کوارٹر کی لازمی موجودگی کا خاتمہ بھی شامل ہے جس کے ذریعے کلیئرنس کی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔

مملکت میں ہر کسٹم بندرگاہ پر کسٹم کلیئرنس میں کسٹم کورس مکمل کرنے والے ایک خود مختار ملازم کی تقرری کی ذمہ داری بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔ سہولت میں کم از کم ایک ملازم جس نے کسٹم کورس مکمل کیا ہو کافی ہے۔

کسٹم کلیئرنس کے پیشے پر عمل کرنے کے قواعد کا مقصد اس پیشے سے متعلق طریقہ کار اور ضروریات کو دستاویزی شکل میں محفوظ کرنا ہے چاہے ان کا تعلق درآمدات، برآمدات یا نقل و حمل سے ہو۔

کسٹمزاتھارٹی نے کہا کہ ان قوانین کے اجراء سے کسٹم کلیئرنس سیکٹر کی سطح اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔ اس حوالے سے نیا ضابطہ اخلاق مملکت کے وژن 2030 کے مطابق تجارت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے اتھارٹی کے اہداف کے حصول کو ممکن بنانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں