رات 8 بجے کے بعد خواتین کی تقریبات پر پابندی، یمنی حوثی عہدیدار پر خیانت کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن میں حوثی گروپ کے رہنماؤں کے درمیان ان کے زیر کنٹرول علاقوں میں اب بھی اختلافات موجود ہیں۔ تازہ ترین پیش رفت میں دارالحکومت صنعاء کے شمال میں واقع عمران گورنری میں گروپ کے ونگز نے ڈائریکٹوریٹ کے ’’ مجاہد‘‘ کے نام سے معروف ڈائریکٹر کی منظوری سے دیئے گئے احکامات سے انحراف کا الزام عائد کیا ہے۔ الزام لگایا گیا کہ ایک قبائلی شیخ کو اپنی بیٹی کی شادی کی تقریب کو 3 گھنٹے تک بڑھانے کی اجازت دے دی گئی۔ یہ ایک سابق فیصلے کے برعکس کیا گیا کیونکہ سابق فیصلے میں شادی کی تقریب شام آٹھ بجے ختم کرنے کی شرط رکھی گئی تھی۔

ریاض کی ایک کمپنی کے استقبالیہ کا منظر
ریاض کی ایک کمپنی کے استقبالیہ کا منظر
Advertisement

عمران سٹی کی ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر خود ایک تقریب ہال کے مالک ہیں۔ انہوں نے حوثیوں کے ساتھ تعاون کرنے والے ایک قابل ذکر قبائلی عبداللہ العصمی کے خاندان کو اپنی بیٹی کی شادی کی تقریب کو رات گیارہ بجے تک بڑھانے کی اجازت دینے کی ہدایت کی تھی۔ اخبار "الشرق الاوسط" کے ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ گروپ کے اصولوں سے ہٹ کر شادی کے طریقہ کار کو کنٹرول کرنے والے طریقے کے برخلاف تھا۔

عمران ضلع میں شادی کمیٹی کے نمائندے ولید البونی نے ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر کی ہدایت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس اقدام کے خلاف احتجاجاً اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر فیصلوں اور ہدایات پر دستخط کرتے وقت اپنے نام کے آگے ’’مجاہد‘‘ کی صفت لگانے کے خواہشمند ہیں تاہم گروپ کے اندر ایک اور ونگ نے اس اقدام کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

جہاں تک البونی کا تعلق ہےاس نے ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر کو اس کی غلطی سے آگاہ کردیا اور نظر انداز کیے جانے کی شکایت کی۔ انہوں نے یمن کے علاقوں میں قائم باغی حکومت میں مقامی انتظامیہ کے وزیر سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’مجاہد‘‘ کے لقب کو پسند کرنے والے اس ڈائریکٹر کو عہدے سے برطرف کردیں۔

خیال رہے عمران گورنری حاشد قبیلے کے لیے زبردست کشش رکھتا ہے۔ اس کا معاشرہ بہت قدامت پسند سمجھا جاتا ہے۔ تاہم البونی نے اس گورنری کو "بدعنوانی کی سب سے بڑی گورنری‘‘ قرار دیا ہے۔

شادی کی پارٹیوں کے اوقات کے حوالے سے نام نہاد میرج کمیٹی نے سرکلر جاری کیا تھا کہ خواتین کی پارٹیاں رات ساڑھے آٹھ بجے ختم ہو جاتی ہیں اور ہال کے باہر لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ مرد پارٹیوں کی طرح سرکلر میں یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ لاؤڈ سپیکر کی آواز صرف ہال کے اندر رہنی چاہیے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو قید اور جرمانے کی سزاؤں سے بھی خبردار کردیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں