اسرائیلی عدالت نے فلسطینی گاؤں کو مسمار کرنے کی درخواست مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل کی اعلیٰ ترین عدالت نے اتوار کے روز آبادکاری کی حامی تنظیم کی جانب سے حکام کو مقبوضہ مغربی کنارے میں بدو آبادی پر مشتمل ایک گاؤں کو مسمار کرنے پر مجبور کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ اس فیصلے سے گاؤں کی ملکیت کے بارے میں برسوں کی جاری قانونی لڑائیوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔

یروشلم کے مشرق میں ایک اسٹریٹجک شاہراہ پر واقع خان احمر گاؤں کو 2018 میں اس فیصلے کے بعد مسمار کیا جانا تھا کہ اسے اسرائیلی اجازت نامے کے بغیر تعمیر کیا گیا۔

تاہم گاؤں کے 200 رہائشیوں کو بین الاقوامی حمایت حاصل ہے اور یہ مسماری متعدد وجوہ اور عالمی دباؤ کے باعث ملتوی ہوتی رہی۔

دائیں بازو کا اسرائیلی گروپ ریگویم حکومت کو عدالت میں لے کر گیا تھا تاکہ حکام کو گاؤں کو مسمار کرنے پر مجبور کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے اتوار کے روز حکومت کو انہدام کے حکم میں غیر معینہ مدت کے لیے تاخیر کی اجازت دی، جس میں "سکیورٹی اور سفارتی وجوہات" کا حوالہ دیا گیا ہے۔ جن کی تفصیل ایک خفیہ حکومتی بیان میں بیان کی گئی ہے۔


یورپی یونین اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے دباؤ اور اسرائیل میں برسوں سے جاری سیاسی عدم استحکام کے باعث انتظامیہ نے خان احمر کے بارے میں فیصلہ یکے بعد دیگرے آٹھ بار ملتوی کیا ہے۔

آخری بار سپریم کورٹ نے 7 فروری کو وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت کی جانب سے گاؤں کو مسمار کرنے کی منصوبہ بندی کے لیے مزید وقت کی درخواست کے بعد تین ماہ کے التوا کو منظور کر لیا تھا۔

اتوار کے فیصلے میں، ججوں نے زور دیا کہ خان احمر "غیر قانونی" تھا لیکن قبول کیا کہ انہیں زبردستی اس کے انہدام میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

یہ گاؤں مغربی کنارے کے ایریا سی میں واقع ہے اور مکمل اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔

فلسطینیوں کے لیے وہاں تعمیراتی اجازت نامے حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

اسرائیل نے 1967 کی چھ روزہ جنگ کے بعد سے مغربی کنارے پر قبضہ کر رکھا ہے، جہاں تقریباً 2.9 ملین فلسطینی آباد ہیں۔ یہاں تقریباً 475,000 یہودی آباد کار بھی ریاست سے منظور شدہ بستیوں میں رہتے ہیں جنہیں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

بہت سے ممالک نے اسرائیل سے کہا ہے کہ بدو گاؤں کو مسمار کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو گی۔

ریگویم، جس کے بیان کردہ مشن میں "اسرائیل کی قومی زمینوں کا تحفظ" شامل ہے، نے 2019 میں سپریم کورٹ میں مسمار کرنے کے لیے ایک درخواست دائر کی تھی۔

اس گروپ نے اتوار کے روز اسرائیل پر "بین الاقوامی دباؤ کا شکار" ہونے کا الزام لگایا، ایک بیان میں کہا کہ عدالت کا فیصلہ "ملک کو انتشار کے دہانے پر لے جا رہا ہے۔"

اس سے قبل اتوار کے روز اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے میں جنوب میں بیت لحم کے قریب ایک فلسطینی گاؤں جببت الذہیب میں ایک پرائمری اسکول کو مسمار کر دیا تھا، یہ بھی ریگویم کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کے بعد عمل میں آیا تھا۔

اس انہدام پر یورپی یونین کی جانب سے شدید تنقید کی گئی جس نے اس منصوبے کو فنڈ فراہم کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں