شام میں منشیات کا سب سے مشہور سمگلر "شامی اسکوبار" نامعلوم حملے میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اس وقت جب اردن شام کی جانب سے اپنی سرزمین تک منشیات کی سمگلنگ کی کارروائیوں کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے، ایک "نامعلوم" فضائی حملے میں جنوبی شام میں منشیات کے ایک مشہور سمگلر کو نشانہ بنایا گیا۔

باخبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ یہ فضائی حملہ اردن کی فضائیہ نے کیا تھا، اور سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اس کے نتیجے میں اردن کی سرحد پر السویداء کے مشرقی دیہی علاقوں میں الشعب گاؤں میں "مرعی الرمثان" کو ہلاک کیا گیا ہے۔

جبکہ اردن کی جانب سے اس پر کوئی سرکاری تبصرہ نہیں کیا گیا۔

بڑے منشیات فروش

آبزرویٹری کے مطابق الرمثان کو خطے میں کیپٹاگون سمیت دیگر منشیات کے سب سے بڑے ڈیلروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور جو شامی علاقے سے سب سے زیادہ منشیات اردن بھیجتا تھا۔ دنیا کے سب سے بڑے اور مشہور منشیات فروش "بابلو اسكوبار" کی نسبت سے اسے "شامی اسكوبار" کہا جاتا تھا۔

شام کے اندر اپنی نوعیت کا یہ منفرد حملہ اس ماہ کے اوائل میں عمان میں ہونے والی وزرائے خارجہ کی ایک اہم ملاقات کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان کے بعد کیا گیا ہے جس میں اردن، شام، عراق، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ شامل تھے۔

اس ملاقات میں "دمشق اور پڑوسی ممالک ، خاص طور پر شام کی سرحد کے پار منشیات کی اسمگلنگ متاثر ملکوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کرنے پر بات چیت کی گئی تھی"

مذکورہ ملاقات میں شامی حکومت کے اردن اور عراق کے ساتھ ایک ماہ کے اندر دو الگ الگ مشترکہ سیاسی/سیکیورٹی ورکنگ گروپس کی تشکیل میں تعاون کی بھی توثیق کی گئی، تاکہ منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کے ذرائع اور اسمگلنگ کو منظم کرنے والے فریقوں کی نشاندہی کی جا سکے۔

اردن اور عراق کے ساتھ سرحدوں کے پار آپریشن، اور سمگلنگ کی کارروائیوں کو ختم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنا بھی اس بات چیت کا حصہ تھا۔

قابل ذکر ہے کہ یہ بمباری عرب لیگ میں شام کی رکنیت کی بحالی کے اعلان کے ایک دن بعد ہوئی ہے۔


کیپٹاگون کا ذریعہ

اردن کی فوج شام کے علاقوں سے آنے والے ہتھیاروں اور منشیات کی اسمگلنگ کو ناکام بنانے کے لیے برسوں سے سرگرم ہے، خاص طور پر جب یہ منشیات کی اسمگلنگ کے بڑے پلیٹ فارم میں تبدیل ہو چکا ہے، جیسے کہ کیپٹاگون کی اسمگلنگ کے لیے۔

عمان کا خیال ہے کہ اردن اور شام کی سرحد کے پار منشیات کی اسمگلنگ، جو تقریباً 375 کلومیٹر کے فاصلے پر پھیلی ہوئی ہے، ایک "منظم آپریشن" بن گیا ہے جس میں ڈرون استعمال کیے جاتے ہیں اور اسے مسلح گروہوں کے ذریعے تحفظ حاصل ہے۔

اے ایف پی کے مطابق، 2011 میں جنگ شروع ہونے سے پہلے سے ہی شام کیپٹاگون کی اسمگلنگ کا سب سے نمایاں ذریعہ تھا۔

یہ محرک ایمفیٹامائنز کی ان اقسام میں سے ایک ہے، جس میں عام طور پر ایمفیٹامائنز، کیفین اور دیگر مادوں کو ملایا جاتا ہے۔

تاہم، خانہ جنگی کے بعد اس کی تیاری ، استعمال اور برآمد میں اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں