پہلی سہ ماہی : سعودی بجٹ میں 280.9 بلین ریال کی آمدنی، خسارہ 2.91 بلین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی وزارت خزانہ نے 2023 کی پہلی سہ ماہی کے بجٹ کے اعداد و شمار کا اعلان کردیا اور بتایا کہ پہلی سہ ماہی میں 280.9 بلین ریال کی آمدنی ریکارڈ کی گئی۔ سعودی بجٹ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ غیر تیل کی آمدنی میں سالانہ بنیادوں پر 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اخراجات کی مالیت تقریباً 283.9 بلین ریال رہی۔ اس طرح خسارہ 2.91 بلین ریال ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ سال کی اسی مدت میں بجٹ خسارہ میں نہیں بلکہ 57.5 بلین ریال سرپلس میں تھا۔ تین ماہ کے دوران سرمائے کے اخراجات میں سال بہ سال 75 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

81
81

تیل کی آمدنی کی مالیت 178.6 بلین ریال اور غیر تیل کی آمدنی 102 بلین ریال رہی۔ سعودی حکومت نے 2023 کے بجٹ کا تخمینہ 16 ارب ریال کے سرپلس پر لگایا تھا۔ اس اعتبار سے ایک سہ ماہی میں بجٹ اوسط 4 بلین ریال سرپلس ہونا چاہیے تھا۔ سعودی بجٹ کے متعلق اپنی گفتگو میں الامام یونیورسٹی کے فنانس اینڈ انویسٹمنٹ کے پروفیسر ڈاکٹر محمد مکنی نے وضاحت کی کہ غیر تیل کی آمدنی میں بہتری سعودی عرب کی حکمت عملی کے مطابق ہے ۔

اس حکمت عملی سے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں کسی بھی نقصان کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ مکنی نے ’’العربیہ ‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ سال 2023 کے تخمینی بجٹ کے اخراجات اور محصولات کا حجم اس سہ ماہی میں تقریباً 25 فیصد کے برابر رہا۔ یہ واضح مالیاتی منصوبہ بندی کا ثبوت ہے ۔

آفس آف بیسک بزنس فار اکنامک انویسٹمنٹ کے سربراہ عمر با حلیوہ نے ’’ العربیہ‘‘ سے بات چیت میں کہا نیشنل سینٹر فار پبلک ڈیٹ نے چند سالوں میں مسابقتی شرائط پر قرضے حاصل کرنے کے لیے کام کیا ہے اور ان کوششوں کے ثمرات اب نظر آنے لگے ہیں۔سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مملکت میں مجموعی گھریلو پیداوار یعنی جی ڈی بی میں 2023 کی پہلی سہ ماہی کے دوران سالانہ بنیادوں پر 3.9 فیصد اضافہ ہوا۔

اتھارٹی نے اپنی ویب سائٹ پر شائع اور ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘کے ذریعے جانچے گئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 2023 کی پہلی سہ ماہی میں سعودی معیشت کو غیر تیل کی سرگرمیوں کی وجہ سے ترقی ہوئی ہے۔ غیر تیل کی سرگرمیوں میں 5.8 فیصد اضافہ ہوا۔ سرکاری خدمات کی سرگرمیوں میں 4.9 فیصد اضافہ ہوا۔ تیل کی سرگرمیوں میں سال بہ سال 1.3 فیصد اضافہ ہوا۔

2022 کی چوتھی سہ ماہی کے مقابلے میں 2023 کی پہلی سہ ماہی میں موسمی طور پر ایڈجسٹ شدہ حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو میں 1.3 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ کمی تیل کی سرگرمیوں میں 4.8 فیصد کی شرح سے ریکارڈ کی گئی کمی کی وجہ سے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں