’’اردن نے شام میں ایران سے وابستہ منشیات کی فیکٹری اوراسمگلرپرفضائی حملہ کیا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اردن نے پیر کے روزشام کے جنوبی علاقے میں غیر معمولی فضائی حملے کیے ہیں۔ان میں ایران سے منسلک منشیات کی ایک فیکٹری کو نشانہ بنایا گیا اور دونوں ممالک کی سرحدوں سے منشیات کی اسمگلنگ کے دھندے میں ملوّث ایک معروف اسمگلرکو ہلاک کردیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اردنی فضائیہ نے ایک حملے میں شام کے جنوبی صوبہ درعا میں واقع ایران کے حمایت یافتہ لبنانی گروپ حزب اللہ سے وابستہ منشیات کی ایک خالی تنصیب کونشانہ بنایا۔حزب اللہ شامی صدربشارالاسد کی بھی اتحادی ہے۔

اردن کی سرحد کے نزدیک واقع شامی صوبہ السویدہ کے گاؤں شعب پر ایک اور حملے میں شام میں منشیات کاسرغنہ مرعی الرمثان اوراس کے اہل خانہ ہلاک ہوگئے ہیں۔

منشیات کے دھندے پرنظر رکھنے والے شامی محقق ریان معروف نے کہا کہ "رمثان کا گھر اورتنصیب دونوں فضائی حملے کے بعد کھنڈر میں تبدیل ہوکررہ گئے ہیں‘‘۔

معروف نے اس معاملے سے واقف مقامی ذرائع کے بیانات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ درعامیں واقع قصبے خراب الشہیم میں منشیات کی فیکٹری کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ حزب اللہ کے تن خواہ داراسمگلروں کی ملاقات کا مقام تھی۔

مرعی الرمثان
مرعی الرمثان

اردن اورعلاقائی انٹیلی جنس ذرائع کاکہنا ہے کہ جنوبی شام میں منشیات کے بڑے ڈیلر اوراسمگلر مرعی الرمثان نے سیکڑوں بدو ٹرانسپورٹرز کو بھرتی کررکھا تھا۔ وہ ایران نواز ملیشیا کی صفوں میں بھی شامل ہو جاتے ہیں اورجنوبی شام میں اثرورسوخ رکھتے ہیں۔

عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں اردن کی عدالتوں نے منشیات کی اسمگلنگ کے جرم میں رمثان کومتعدد مواقع پرموت کی سزا سنائی تھی۔

علاقائی انٹیلی جنس اور جنوبی شام کی صورت حال پر نظر رکھنے والے مغربی سفارتی اور سراغرساں ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اردن کے جنگی طیاروں نے شام میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری لڑائی کے بعدپہلی مرتبہ اس طرح کی فضائی کارروائی کی ہے اور منشیات سے متعلق دو اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

تاہم اردن کے وزیرخارجہ ایمن الصفدی نے اس بات کی تصدیق کرنے سے انکارکردیا کہ ان کے ملک نے یہ حملہ کیا ہے۔انھوں نے کہا:’’جب ہم اپنی قومی سلامتی کے تحفظ یا کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی قدم اٹھائیں گے تو ہم صحیح وقت پر اس کا اعلان کریں گے‘‘۔

اردن تیل کی دولت سے مالامال خلیجی ممالک کے لیے ایک منزل اور ایک اہم راہداری راستہ ہے۔سستی نشہ آور دوا ایمفیٹامائن کے بارے میں مغربی ممالک اور عرب ریاستوں کا کہناہے کہ یہ جنگ سے تباہ حال شام میں تیاراور برآمد کی جاتی ہے۔

شامی صدربشارالاسد کی حکومت منشیات کی تیاری اوراسمگلنگ میں ملوث ہونے سے انکارکرتی ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ ایسے الزامات ملک کے خلاف مغربی سازشوں کا حصہ ہیں۔

حزب اللہ بھی منشیات کی تجارت میں ملوث ہونے کی تردید کرتی ہے۔اس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اردن کے الزامات خطے میں ایران کے اثرورسوخ کو کم کرنے کی واشنگٹن کی مہم کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ واقعہ صفدی کی دھمکی کے چند روز بعد پیش آیا ہے۔اس میں انھوں نے کہا تھاکہ اگر دمشق نے منشیات کی اسمگلنگ پرقابو نہیں پایا تو وہ شام کے اندرحملہ کریں گے۔انھوں نے کہا کہ ایران سے منسلک منشیات کی جنگ نہ صرف اردن کی قومی سلامتی بلکہ خلیجی ممالک کے لیے بھی خطرہ ہے۔

دو عہدہ داروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ حملے دمشق کے لیے ایک پیغام تھے کہ اسے عمان کے اس عزم کوغلط نہیں سمجھنا چاہیے جبکہ وہ شام کے اختلافات کو ختم کرنے کی عرب کوششوں کی قیادت کررہا تھا۔

اردنی حکام کاکہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں شامی حکام کے ساتھ سکیورٹی ملاقاتوں میں منشیات کی اسمگلنگ میں اضافے پرخدشات اور تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔شامی حکام نے وعدے توضرور کیے تھے لیکن ان کی جانب سے اس دھندے کو روکنے کی کوئی حقیقی کوشش ملاحظہ نہیں کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں