سعودی فیسٹول میں ترکی السدیری پر بنی دستاویزی فلم ’’صحافت کے بادشاہ کی کہانی‘‘ پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی فلم فیسٹیول نے اپنے نویں ایڈیشن میں ’’اثراء‘‘ تھیٹر میں مرحوم صحافی ترکی السدیری کی زندگی پر مبنی دستاویزی فلم ’’صحافت کے بادشاہ کی کہانی‘‘ کی نمائش کردی۔ ترکی السدیری کو یہ لقب شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے دیا تھا۔ مرحوم ترکی السدیری کا صحافتی سفر آسان اور ہموار نہیں تھا۔ ان کا کیریئر مشکلات سے بھرا ہوا تھا۔

دستاویزی فلم کو سعودی فلم فیسٹیول میں ایک پریمیئر میں پیش کیا گیا۔ اس فلم کو حسن سعید نے ڈائریکٹ کیا۔ فلم کو آڈیو ویژول میڈیا پروڈکشن کے لیے "ٹرو لائٹ"، "ضوء" اور "ظل" نے پروڈیوس کیا ہے۔ پروڈیوسر علی سعید اور حسن سعید ہیں اور مصنف علی سعید ہیں۔

ہدایت کار حسن سعید نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا کہ یہ فلم پروفیسر ترکی السدیری کے نصف صدی پر محیط اثر انگیز تجربے سے متعلق ہے۔ ترکی السدیری کی زندگی کو صحافت اور ثقافت کے ممتاز ستاروں نے پوری توجہ اور کشش کے ساتھ بیان کیا ہے۔

مصنف رجا سایر المطیری نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’’صحافت کے بادشاہ‘‘ ترکی السدیری کی سوانح عمری دستاویزی اور تخلیقی فلمی آنکھ سے بیان کرنے کا مستحق ہے۔ محبت، فن اور آگہی کے متعلق یہ ایک معیاری فلم ہے۔ اس فلم پر میں علی سعید اور حسن سعید کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

واضح رہے ترکی السدیری نے 1974 میں "الریاض" اخبار کے چیف ایڈیٹر کا عہدہ سنبھالا تھا جب ان کی عمر 30 سال تھی اور وہ 41 سال تک اپنے عہدے پر فائز رہے۔ 1972 میں انہوں نے اپنے کالم ’’ لقا‘‘ کا آغاز کیا۔ انہوں نے اس عنوان سے 23 سو کالم لکھے۔ یہ سعودی صحافتی تاریخ کا طویل ترین کالم ہے۔ یہ کالم ان کی عمر 43 سال ہونے تک جاری رہا۔

السدیری 2005 میں گلف پریس ایسوسی ایشن کے پہلے صدر منتخب ہوئے اور 14 مئی 2017 کو اپنی موت تک اس عہدے پر فائز رہے۔ انہوں نے متعدد عالمی رہنماؤں اور اہم عرب شخصیات کے ساتھ متعدد پریس انٹرویوز کیے۔ترکی السدیری کا انتقال 14 مئی 2017 کو 73 سال کی عمر میں ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں