مصر کے اعلانِ جنگ بندی کے باوجوداسرائیلی فوج اور فلسطینی تنظیموں کے درمیان لڑائی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

فلسطین کی مزاحمتی تنظیموں نے بدھ کے روز غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر سیکڑوں راکٹ داغے ہیں جبکہ اسرائیل نے فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔اس فضائی بمباری میں کم سے کم 10 عام شہریوں سمیت 21 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔ان میں تین سینیرمزاحمت کاربھی شامل ہیں۔

اس دوران میں مصر کے ایک سرکاری ٹی وی چینل نے فریقین کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثی کی اطلاع دی ہے لیکن اس اعلان کے فوراً بعد ہی اسرائیل کی طرف مزید راکٹ داغے گئے۔ان میں ایک گولہ ساحل، سمندر پر واق تل ابیب میں گراہے جبکہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں مزید اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔مسلسل لڑائی کے پیش نظرابھی تک صورت حال غیریقینی ہے کہ جنگ بندی کب نافذالعمل ہوگی۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے پرائم ٹائم ٹی وی خطاب میں دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے فلسطینی عسکریت پسندوں کو سخت دھچکا پہنچایا ہے لیکن انھوں نے خبردارکیا کہ ’’یہ دور ختم نہیں ہوا ہے۔ہم دہشت گردوں اورانھیں بھیجنے والوں سے کہتے ہیں۔ ہم آپ سے ہرجگہ نمٹیں گے۔آپ چھپ نہیں سکتے، اور ہم آپ پر حملہ کرنے کے لیے جگہ اور وقت کا انتخاب کرتے ہیں‘‘۔انھوں نے مزیدکہا کہ اسرائیل بھی فیصلہ کرے گا کہ امن کب بحال ہوگا۔

غزہ سے راکٹ فائر ہونے کے بعدقریباً 80 کلومیٹر (50 میل) دورواقع اسرائیل کے جنوبی اور وسطی علاقے میں فضائی حملے کے سائرن بج اٹھے۔ منگل کی صبح اسرائیل نے پہلا فضائی حملہ کیا تھا اور اس کے بعد سے مقامی افراد حملے کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔

فریقین کے درمیان گذشتہ کئی ماہ میں ہونے والی یہ سب سے شدید لڑائی ہے اور اس نے خطے کو ایک مکمل جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے لیکن اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کی حکمراں حماس کے عسکریت پسند گروپ پرحملوں سے گریزکیا ہے اور صرف ایک چھوٹے اور زیادہ عسکریت پسند دھڑے جہاداسلامی کو نشانہ بنایا ہے۔اس تازہ محاذآرائی میں حماس خاموش تماشائی بنی نظرآئی ہے۔

بدھ کی شب مصرکی سکیورٹی ایجنسیوں سے قریبی تعلقات رکھنے والے ایکسٹرا نیوز ٹیلی ویژن چینل نے اطلاع دی ہے کہ مصرکی ثالثی سے جنگ بندی کا معاہدہ طےپاگیا ہے۔ مصری انٹیلی جنس غزہ میں اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے درمیان اکثر ثالثی کرتی رہتی ہے اور ماضی میں جنگ بندی کی بھی ثالثی کرتی رہی ہے۔

اسرائیلی حکومت کے عہدے داروں نے تصدیق کی ہے کہ مصر جنگ بندی میں سہولت کارکا کردار ادا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرانھوں نے کہا کہ اسرائیل محض اعلانات کے بجائے زمینی اقدامات کی بنیاد پر صورت حال کا جائزہ لے گا۔

حالیہ لڑائی میں ملوث فلسطینی عسکریت پسند گروپ جہادِ اسلامی کی جانب سے فوری طور پرکوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔جب راکٹ آسمان سے گزررہے تھے تو اسرائیلی ٹی وی اسٹیشنوں نے فضائی دفاعی نظام کو تل ابیب کی فضا کے اوپرراکٹوں کو روکتے ہوئے دکھایا ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ پہلی بار ڈیوڈ سلنگ نامی فضائی دفاعی نظام نے ایک راکٹ کو روکا۔امریکاکے ساتھ مل کرتیارکیا گیا یہ نظام درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے خطرات کو روکنے کے لیے ہے اور یہ کثیرسطح فضائی دفاع کا حصہ ہے جس میں مشہور آئرن ڈوم اینٹی راکٹ سسٹم بھی شامل ہے۔

اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ 300غزہ سے سے زیادہ راکٹ فائر کیے گئے۔ان میں سے 200 سے زیادہ سرحد پار کرکے اسرائیلی علاقے میں گرے۔اسرائیلی امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان راکٹوں سے تین افراد زخمی ہوئے ہیں اور جنوبی اسرائیل میں دو گھروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

دریں اثناء صہیونی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی اسرائیل میں جمعہ تک اسکول بند رہیں گے اور بڑے اجتماعات پر پابندی برقرار رہے گی۔اسرائیل کے جنوبی قصبے سدروت کے رہائشی 26 سالہ ایڈن اوراموف نے غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملوں کے 24 گھنٹوں کو خوفناک قرار دیا۔

اسرائیلی طیاروں نے بدھ کو مسلسل دوسرے روزغزہ میں اہداف کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے علاقے میں 40 راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا۔ پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کا کہنا ہے کہ مذکورہ شہیدوں میں چار عسکریت پسند تھے۔

غزہ شہر میں بدھ کے روز غیر واضح حالات میں ایک 10 سالہ فلسطینی لڑکی لیان دوخ اپنے گھر میں ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئی۔اسرائیلی فوج نے فوری طور پر ان کی موت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔منگل کے روز اسرائیل کے ابتدائی فضائی حملوں میں جہاداسلامی کے تین سینیرعسکریت پسند اور کم سے کم 10 عام شہری شہید ہو گئے تھے۔ان میں زیادہ تر خواتین اور بچّے تھے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کے حکمراں زیادہ طاقتورعسکریت پسند گروپ حماس کے ساتھ تنازع سے بچنے اور لڑائی کوجہاداسلامی تک محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اسرائیلی فوج کے چیف ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہاگری نے کہا کہ ’’ہمارے اقدامات کا مقصد مزید کشیدگی کو روکنا ہے کیونکہ اسرائیل کو جنگ میں کوئی دلچسپی نہیں‘‘۔تاہم حماس نے غزہ میں چھوٹی مزاحمتی تنظیم جہاداسلامی کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ہے اور دونوں تنظیمیں اکثر ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتی ہیں۔

ماضی کے تنازعات میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل پر جنگی جرائم کا الزام عائد کیا ہے جس کی وجہ شہری ہلاکتوں کی زیادہ تعدادہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور عسکریت پسند گروہوں کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے جو زیادہ آبادی والے رہائشی علاقوں میں کام کرتے ہیں اوروہاں مکینوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے اعدادوشمار کے مطابق 2023 کے آغاز سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فائرنگ سے کم سے کم 107 فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ان میں سے نصف عسکریت پسند ہیں۔ فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلیوں کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے راکٹ حملوں میں کم سے کم 20 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے سنہ1967ء میں مشرق اوسط کی چھے روزہ جنگ میں دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے، مشرقی یروشلم اورغزہ کی پٹی پر قبضہ کرلیا تھا۔ فلسطینی مستقبل میں قائم ہونے والی اپنی آزاد ریاست میں یہ تینوں علاقے شامل کرنا چاہتے ہیں اور مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو اس مجوزہ ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں